زمره
فتوی نمبر
سوال
حضرت! زکوٰۃ سے متعلق کچھ امور پر رہنمائی درکار ہے۔
(1) کیا ایک صاحبِ نصاب شخص اپنی مالیت کی زکوٰۃ کی پیشگی ادائیگی کرسکتا ہے؟ مثلاً ہر مہینے کچھ رقم زکوٰۃ کی مد میں ادائیگی کرتا رہے، تو کیا اس طرح زکوٰۃ کی ادائیگی درست ہے؟
(2) ایک شخص نے کسی کو قرض دیا اور اس کی مالی حیثیت کمزور ہے، اس لیے وہ قرض کی ادائیگی نہیں کرسکتا۔ تو کیا ایسے شخص کو قرض زکوٰۃ کی مد میں معاف کیا جاسکتا ہے؟
(3) کیا مقروض شخص کو یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ زکوٰۃ میں تمہیں دے رہا ہوں؟
جواب
(1) صاحب نصاب بننے کے بعد سال مکمل ہونے سے پہلے کسی مستحق کو یک مشت یا ہر مہینے کچھ رقم زکوۃ کی مد میں ادا کرنا جائز ہے، پھر جب سال پورا ہو تو حساب کیا جائے کہ زکوۃ پوری ادا کر دی ہے یا باقی ہے، اگر باقی ہو تو فوراً ادا کردے۔
(2) زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت یا زکوٰۃ میں دیے جانے والے مال کو جدا کرتے وقت زکوٰۃ کی نیت کرنا ضروری ہے لیکن قرض دیتے وقت چوں کہ زکوۃ کی نیت نہیں ہوتی، اس لیے اس رقم کو زکوٰۃ کی مد میں معاف کرنے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔
البتہ اگر وہ اس مستحقِ زکوۃ شخص کو زکوٰۃ کی نیت سے نئی رقم دے کر مالک بنا دے، پھر وہی رقم وہ اس کو اپنا قرض چکانے کے لیے واپس کر دے تو اس طرح اس کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی اور مقروض کا قرض بھی ختم ہو جائے گا۔
(3) جس شخص کو زکوٰۃ کی رقم دی جائے، اسے یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ زکوۃ کے پیسے ہیں، بہتر ہے کہ اسے بتائے بغیر یا ہدیہ کہہ کر دیے جائیں تاکہ اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔
