زمره
فتوی نمبر
سوال
میں نے تقریبا 15 سال پہلے ایک مخصوص عمل کو نہ کرنے کا قصد کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ”اگر دوبارہ میں اس عمل کو کروں تو مجھ پر میری ماں کا دودھ حرام ہو“ اور بعد میں وہ عمل مجھ سے ہوتا رہا۔ اس کا کفارہ کیا اور کتنا ہوگا۔
جواب
مدت رضاعت کے بعد کسی شخص کے لیے اپنی والدہ کا دودھ پینا حرام ہے۔ نیز کسی مخصوص کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کے بعد اس کی خلاف ورزی کی صورت میں قسم کھانے والا حانث (قسم کو توڑنے والا) ہوگیا، اب اس پر قسم کا کفارہ لازم ہے۔ قسم کا کفارہ یہ ہے کہ وہ شخص (1) دس مساکین کو صبح و شام ( دو وقت) کا کھانا اس درمیانے درجے کی سطح کا کھلائے جو عام طور پر لوگ اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہیں، یعنی اس کھانے میں نہ تو تکلف اور اسراف ہو اور نہ ہی بخل و تنگی ہو، اس کی مقدار کا تعین صدقہ فطر کی مقدار کے مطابق کیا گیا ہے، یعنی پونے دو کلو گندم یا ساڑھے تین کلو جَو یا کھجور، یا کشمش (متعلقہ شخص اپنی مالی حیثیت کے مطابق فیصلہ کرے گا، وہ ان کی بازاری قیمت بھی دے سکتا ہے ، اسی طرح ایک مسکین کو دس دن دونوں اوقات کا کھانا کھلایا جاسکتا ہے یا قیمت دی جاسکتی ہے) یا (2) دس مساکین کو اپنی حیثیت کے مطابق اوسط درجہ کا سِلے یا ان سِلے کپڑوں کا ایک ایک جوڑا دے۔ اور اگر وہ ان چیزوں کی مالی استطاعت نہیں رکھتا، تو بطور کفارہ تین روزے رکھے جو مسلسل (بلا ناغہ) ہوں۔
