نمازِ تراویح پڑھانے کی اجرت لینا

زمره
عبادات و اخبات الٰہی
فتوی نمبر
0256
سوال

اگر کوئی امام محض پیسے لینے کی نیت سے تراویح پڑھائے تو اس کا یہ اجرت لینا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

قرآن پاک سنانے کے لیے پیسے طے کرکے لینا یا پیسے لینے کی نیت سے تراویح پڑھانا بڑے اجر سے محرومی ہے، کیوں کہ یہ عبادت ہے اور عبادت کا عوض بندوں سے لینا درست نہیں۔ البتہ لوگ اپنی خوش دلی سے کچھ دینا چاہیں، تو لینے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ قرآن سنانے والے کے دل میں دوسروں سے مال یا چیز کے ملنے کی حرص، طمع اور انتظار کی ایسی کیفیت نہ ہو کہ اس کے پورا نہ ہونے پر دلی تکلیف یا ناگواری ہو، اس کو ”اشرافِ نفس“ کہتے ہیں یہ لالچ اور نفس کی پستی کی ایک کیفیت ہے، جو ممنوع ہے۔

مقام
نوشہرہ
تاریخ اور وقت
فروری 23, 2026 @ 06:13شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں