زمره
زکوٰۃ و صدقات
فتوی نمبر
0246
سوال
زکوٰۃ کی ادائیگی کن اثاثہ جات پر ہوتی ہے؟ اگرچہ زیورات موجود ہیں، لیکن اضافی رقم نہیں ہے کہ جس سے زکوٰۃ کی ادائیگی کی جا سکے۔ تنخواہ سے تو بمشکل ماہانہ اخراجات پورے ہوتے ہیں، زکوۃ کی ادائیگی کیسے کریں؟
جواب
اگر کسی شخص کے پاس ساڑھے سات تولے سونا، ساڑھے باون تولے خالص چاندی، یا ساڑھے سات تولے سونے کی مالیت کے برابر نقدی یا مالِ تجارت موجود ہو، تو اس پر سالانہ اڑھائی فیصد (%2.5) زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔ نیز یہ ضروری نہیں کہ زکوۃ صرف نقد رقم سے ادا کی جائے بلکہ واجب الادا رقم کے برابر سونے، چاندی یا اس کے زیور کا کوئی حصہ دے کر یا اسے بیچ کر بھی یہ فریضہ ادا کیا جاسکتا ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ سال بھر اپنی تنخواہ سے قسطوں کی صورت میں زکوۃ ادا کی جائے۔
مقام
شکارپور
تاریخ اور وقت
فروری 22, 2026 @ 05:43صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
