قرآن پاک سنانے کے لیے کوئی بھی ترتیب اپنانا شرعاً جائز بلکہ مستحسن ہے

زمره
عبادات و اخبات الٰہی
فتوی نمبر
0244
سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری مسجد میں حفاظ الحمد للہ بہت زیادہ ہیں اور رمضان المبارک میں قرآن سنانا سب کے لیے ممکن نہیں، کیوں کہ مسجدیں کم ہیں، اس لیے رمضان المبارک میں ان حفاظ کرام کے قرآن سنانے کی ترتیب یوں بنائی جاتی ہے کہ حفاظ کا ایک جوڑا تراویح میں قرآن سناتا ہے، ایک جوڑا تہجد میں اور ایک جوڑا اوابین میں قرآن سناتا ہے، پھر گزشتہ سال جس نے اوابین میں قرآن سنایا تھا، وہ تراویح میں سنائے گا اور جس نے تراویح میں سنایا تھا، وہ اب تہجد میں سنائے گا اور جس نے تہجد میں سنایا تھا، وہ اب اوابین میں سنائے گا۔ یہ ترتیب اس لیے بنائی جاتی ہے تاکہ سب کو قرآن یاد رہے۔ جواب طلب امر یہ ہے کہ کیا اس طرح ترتیب بنا کر قرآن سنانا جائز ہے؟

جواب

​قرآن حکیم سے لگاؤ اور اس کو یاد رکھنے کے لیے جو بھی مناسب ترتیب اپنائی جائے وہ جائز بلکہ مستحسن اور باعث اجر و ثواب ہے۔ شرعی طور پر اس میں کوئی ممانعت نہیں۔

مقام
ہارون آباد
تاریخ اور وقت
فروری 21, 2026 @ 06:38شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں