زمره
فتوی نمبر
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری مسجد میں حفاظ الحمد للہ بہت زیادہ ہیں اور رمضان المبارک میں قرآن سنانا سب کے لیے ممکن نہیں، کیوں کہ مسجدیں کم ہیں، اس لیے رمضان المبارک میں ان حفاظ کرام کے قرآن سنانے کی ترتیب یوں بنائی جاتی ہے کہ حفاظ کا ایک جوڑا تراویح میں قرآن سناتا ہے، ایک جوڑا تہجد میں اور ایک جوڑا اوابین میں قرآن سناتا ہے، پھر گزشتہ سال جس نے اوابین میں قرآن سنایا تھا، وہ تراویح میں سنائے گا اور جس نے تراویح میں سنایا تھا، وہ اب تہجد میں سنائے گا اور جس نے تہجد میں سنایا تھا، وہ اب اوابین میں سنائے گا۔ یہ ترتیب اس لیے بنائی جاتی ہے تاکہ سب کو قرآن یاد رہے۔ جواب طلب امر یہ ہے کہ کیا اس طرح ترتیب بنا کر قرآن سنانا جائز ہے؟
جواب
قرآن حکیم سے لگاؤ اور اس کو یاد رکھنے کے لیے جو بھی مناسب ترتیب اپنائی جائے وہ جائز بلکہ مستحسن اور باعث اجر و ثواب ہے۔ شرعی طور پر اس میں کوئی ممانعت نہیں۔
