تراویح میں تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہونا

زمره
عبادات و اخبات الٰہی
فتوی نمبر
0231
سوال

ایک امام غلطی سے نمازِ تراویح میں دوسری رکعت کے بعد قعدہ کرکے تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا اور تیسری رکعت بھی مکمل کرلی تو وہ اب کیا کرے؟

جواب

اگر امام نے دوسری رکعت میں قعدہ کرلیا ہے تو دو رکعتیں اَور ساتھ ملا کر چار رکعات کے بعد سلام پھیر دے، نمازِ تراویح صحیح ہوجائے گی۔ مگر افضل عمل دو دو رکعت کرکے پڑھنا ہے۔ ہاں! اگر امام صاحب نے دوسری رکعت کے بعد قعدہ نہیں کیا اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا تو اگر اس کو قیام میں یاد آگیا یعنی تیسری رکعت کے سجدے سے پہلے پہلے یاد آگیا تو اُسے چاہیے کہ واپس بیٹھے، قعدہ کرے اور سجدہ سہو بھی کرلے۔ البتہ اگر تیسری رکعت کا سجدہ کرلینے کے بعد یاد آیا تو ایک رکعت اَور پڑھ کر سجدہ سہو کرکے نماز سے فارغ ہو۔ اس صورت میں اس کی پہلی دو رکعتیں نفل اور بعد والی دو رکعتیں تراویح شمار ہوں گی۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ پہلی دو رکعتوں میں پڑھے جانے والے قرآن حکیم کی قرأت دوبارہ کرلے۔

مقام
چشتیاں
تاریخ اور وقت
فروری 20, 2026 @ 03:19صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں