نصاب سے کم رقم پر زکوٰۃ کا حکم

زمره
زکوٰۃ و صدقات
فتوی نمبر
0236
سوال

مفتی صاحب! میرے پاس استعمال کے لیے ایک گاڑی تھی، جس کی قیمت سات لاکھ روپےتھی۔ میں نے وہ گاڑی ایک کاروباری دوست کو دے دی تاکہ وہ اس کو کاروبار میں لگائے۔ اب ایک سال میں پانچ لاکھ منافع کے ساتھ میرے پاس ٹوٹل رقم تیرہ لاکھ ہوگئی ہے۔ کیا اب میرے اوپر زکوۃ فرض ہے؟ جب کہ میرے پاس اس کے علاوہ (سونا چاندی اور مال تجارت) کچھ نہیں۔

جواب

​نقد رقم ساڑھے سات تولے سونے کی مالیت کو پہنچتی ہو تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوۃ فرض ہوتی ہے، جب کہ تیرہ لاکھ روپے ساڑھے سات تولے سونے کی موجودہ مالیت کو نہیں پہنچتے، اس لیے آپ کے اوپر زکوۃ فرض نہیں۔​

مقام
کراچی
تاریخ اور وقت
فروری 18, 2026 @ 05:13صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں