زمره
روزہ و اعتکاف
فتوی نمبر
0221
سوال
ایک خاتون بہت زیادہ بیمار تھی۔ اس نے نذر مانی کہ اگر میں صحت مند ہوگئی، تو تادمِ حیات ہر مہینے تین روزے رکھا کروں گی۔ چناں چہ کچھ عرصے بعد وہ صحت مند ہوگئی، لیکن روزے اس کے لیے مشکل ہو رہے ہیں اور تیس مہینے گزر گئے کہ اس نے نذر کے مطابق روزے نہیں رکھے۔ سوال یہ ہے کہ تیس مہینوں کے نوے روزے، نذر کی وجہ سے اس کے ذمے لازم ہوئے ہیں تو وہ اس کے بدلے فدیہ وغیرہ دے سکتی ہے؟
جواب
صحت مند ہونے کے بعد نذر کا پورا کرنا ضروری ہے۔ چناں چہ اس کی وجہ سے اس پر لازم ہے کہ وہ ہر مہینے تین روزے رکھے۔ اور اگر روزہ رکھنا انتہائی دشوار ہو تو ہر روزے کے عوض 1700 گرام گندم بطورِ فدیہ ادا کرے۔
مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
فروری 16, 2026 @ 06:57شام
ماخذ
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
