وارث کا دوسرے ورثا کو میراث سے محروم کرنا

زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0234
سوال

ہمارے ماں باپ فوت ہوگئے ہیں، ان کی ساری جائیداد بڑے بھائی کے پاس ہے، وہ بہن بھائیوں میں تقسیم نہیں کر رہا اور تو اور اپنی بیوی بچوں کے اخراجات بھی اس سے پورے کرتا ہے، ایسے شخص کے لیے شریعت کیا کہتی ہے؟

جواب

​بڑے بھائی کے لیے اپنے والدین کی وراثت میں سے اس قدر حصہ لینا جائز ہے جو شریعت نے اس کے لیے مقرر کیا ہے۔ دوسرے بہن بھائیوں کو ان کے شرعی حق سے محروم کرنا اللہ تعالی کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز ہے۔
ایسے شخص کے بارے میں قرآن حکیم میں سخت وعید آئی ہے، چناں چہ سورۃ النساء میں وراثت کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
”وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ“(1)
​(اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدوں سے نکل جائے، وہ اسے جہنم کی آگ میں ڈالے گا، اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔)
لہذا بڑے بھائی کو چاہیے کہ اللہ کے عذاب اور آخرت میں رسوائی سے ڈرتے ہوئے جلد از جلد تمام ورثا کو ان کا حق سپرد کرے۔


(1) 04- النساء: 14۔

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
فروری 16, 2026 @ 06:11شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں