زمره
فتوی نمبر
سوال
میں گزشتہ دس سال سے ایک سرکاری بینک میں ملازمت کر رہا ہوں۔ ہمارے بینک میں آج کل ایک بحث چل رہی ہے کہ روایتی بینکاری حرام، جب کہ اسلامی بینکاری حلال اور جائز ہے۔ مجھ جیسے کئی بینک آفیسرز الجھن کا شکار ہیں کہ ہم روایتی بینک کو چھوڑ کر اسلامی بینک میں جائیں یا نہ جائیں؟ براہِ کرم تسلی بخش جواب مرحمت فرمائیں۔
جواب
اسلامی بینکاری اور روایتی بینکاری میں کوئی جوہری فرق نہیں ہے، صرف لفظوں کا دھوکا ہے، بلکہ سرمایہ داری نظامِ معیشت کو حیلوں، دھوکا دہی اور جعل سازی سے اسلامی بنانے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔ اس لیے کہ:
1۔ یہ ”اسلامی بینک“ بھی اسٹیٹ بینک کی اجازت سے کام کر رہے ہیں اور ملکی بینکاری نظام عالمی بینکاری نظام کا حصہ ہے، جو سرمایہ دارانہ اصول پر سود کو جائز قرار دینے اور ظلم و استحصال پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔
2۔ یہاں کے ”اسلامی بینک“ بھی روایتی بینکوں کی طرح اجارہ دار سرمایہ داروں کے سرمائے کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں، جب کہ مجبور و مقہور غریب، قرض لینے والوں کی محنت اور حقوق کو کوئی تحفظ نہیں دیتے، بلکہ اسلام کے نام پر ان کا استحصال کرتے ہیں۔
3۔ ان بینکوں میں حیلوں سے کام لیا جاتا ہے۔ اسی طرح عقدِ بیع کے ساتھ ساتھ عقدِ اجارہ کرتے ہوئے احادیث کی روشنی میں ”صفقۃ فی صفقۃ“ کے اسلامی قانون کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ حال آں کہ یہ تمام امور اسلام کے عقود و معاملات کی لازمی روح‘ تعاونِ باہمی و اشتراک کے سراسر خلاف ہیں۔ پس اسلام کے نام پر اس طرح کے حیلے اختیار کرنا بڑا جرم ہے۔
4۔ مجبوری میں قرض لینے والے سے قرض کی قسط شارٹ ہوجائے تو اس پر حیلوں سے جواز نکال کر مالی جرمانے بھی عائد کردیے جاتے ہیں۔ یہ بھی بہت بڑا ظلم ہے۔
اس لیے ہمارے نزدیک اسلامی بینکاری اور روایتی بینکاری میں کوئی فرق نہیں۔ جو شرعی حکم روایتی بینکاری کا رہا ہے، وہی حکم ”اسلامی بینکاری“ کا ہے۔ دونوں ہی اس سرمایہ داری نظام کے آلہ کار ہیں۔
