زمره
فتوی نمبر
سوال
اگر نماز فجر کی ادائیگی کے دوران سورج طلوع ہوگیا، یا اسی طرح عصر کی نماز اس قدر تاخیر سے شروع کی کہ سورج نصف کے قریب ڈوب چکا تھا، یہاں تک کہ دورانِ نماز سورج غروب ہو گیا۔ ان دونوں صورتوں میں کیا نماز فجر اور نماز عصر ادا ہو گئی؟ یا دوبارہ پڑھنا پڑے گی؟
جواب
بخاری شریف وغیرہ کی مشہور حدیث ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ آں حضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ: ”جس نے سورج کے طلوع سے پہلے ایک رکعت پالی تو اس نے صبح (کی نماز ) کو پالیا۔ اور جس نے سورج کے غروب سے پہلے ایک رکعت پالی تو اس نے نماز عصر کو پالیا۔ عام احناف نماز فجر اور نماز عصر میں اپنے قواعد کی بنا پر فرق کرتے ہیں۔ ان کے ہاں عصر کی نماز ناقص وقت میں شروع کی تو غروب کے باوجود ادا ہوگئی، مگر نماز فجر سے پہلے کامل وقت تھا۔ ایک رکعت نماز فجر پڑھی تھی کہ سورج طلوع ہو گیا تو یہ نماز ٹوٹ گئی۔ اس لیے عموماً مساجد میں ممنوع وقت کی سرخ بتی لگا دی جاتی ہے۔ مگر امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ وغیرہ محققین فقہائے احناف کی اس حدیث مشہور کے مطابق یہی رائے ہے کہ دونوں نمازیں ہوگئیں، دُہرانا ضروری نہیں ۔ ہمارے استاذِ گرامی حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ اس کو ترجیح دیتے تھے، البتہ یہ الگ بات ہے کہ اس کو معمول بنانا درست نہیں۔ اس کو دوسری حدیث میں منافقین کا شیوہ قرار دیا گیا ہے۔ اگر سفر وغیرہ شرعی عذر کی وجہ سے تاخیر ہو جائے تو قضا کرنے سے اسی وقت پڑھ لینا مناسب ہے۔
