زمره
فتوی نمبر
سوال
مسلم مارواڑی سلاوٹ برادری کے رواج کے مطابق شادی پر فریقین ایک دوسرے کو سونا محض عارِیتاً (استعمال کے لیے) دیتے ہیں، مالک نہیں بناتے۔ میری بیوی حدیقہ نے اپنے میکے سے ملا سونا تو واپس لے لیا، لیکن میری والدہ ”نسرین صداقت“ کی طرف سے استعمال کے لیے دیا ہوا سونا واپس کرنے سے انکار کر دیا اور وہ اسے اپنا حق یا ہدیہ قرار دیتی ہے۔ میں نے خلع کی رضامندی کو سونے کی واپسی سے مشروط کیا، مگر عدالت نے اسے قانوناً تحفہ قرار دیتے ہوئے واپسی کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا۔ براہ کرم درج ذیل سوالات پر شرعی رہنمائی فرمائیں:
(1) کیا برادری کے رواج کے تحت میری والدہ ”نسرین صداقت“ کا میری بیوی ”حدیقہ“ کو دیے گئے زیورات واپس مانگنا شرعاً درست ہے؟ اور کیا بیوی کے لیے ان زیورات کی واپسی سے انکار کرنا جائز ہے؟
(2) کیا میں اپنی بیوی سے اپنی والدہ کے زیورات بدلِ خلع کے طور پر واپس لے کر خلع کا مطالبہ قبول کرسکتا ہوں؟
(3) کیا عاریت پر دیے گئے زیورات کو عدالت تحفہ قرار دے سکتی ہے؟
(4) جب بیوی زیورات کو اپنا تحفہ قرار دے اور سسرال والے اسے صرف عاریت کہیں، تو اس دعوے اور جوابی دعوے کی صورت میں شریعت کس کے حق میں فیصلہ دیتی ہے اور اس تنازع کا کیا حل ہے؟
(5) جب ہم زیورات واپس مانگتے ہیں تو سسرال والے شادی اور رسومات کے اخراجات کا مطالبہ کر دیتے ہیں۔ یہ رسومات دونوں طرف سے خوشی سے کی گئی تھیں، تو کیا ان کے اخراجات کا مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے؟
(6) منگنی اور شادی کے موقع پر فریقین کی طرف سے دیے گئے تحائف (جیسے بائیک، موبائل وغیرہ) کا شرعی کیا حکم ہے؟
جواب
(1) اگر ملکیت میں دینے کی کوئی صراحت نہیں تھی بلکہ برادری کے رسم و رواج کے تحت وہ سونا محض عاریتاً دیا گیا تھا (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) تو وہ سونا آپ کی والدہ ”نسرین صداقت“ کا ہے۔ آپ کی بیوی ”حدیقہ“ کے لیے وہ سونا رکھنا جائز نہیں۔ لہذا زیورات کا مطالبہ حق بجانب ہے، واپس دینے سے انکار درست نہیں۔
(2) اس صورت میں خلع کا مطالبہ قبول کیا جا سکتا ہے۔
(3) اگر یہ ثابت ہو جائے کہ زیورات محض عاریتاً دیے گئے تھے اور ملکیت منتقل کرنے کی کوئی صراحت نہ تھی، تو عدالت کا انہیں تحفہ قرار دینا درست نہیں۔
(4) اگرچہ مسئلے کا شرعی حکم واضح کر دیا گیا ہے، تاہم بہتر یہ ہے کہ اس معاملے کو خاندان کے با اعتماد اور معزز لوگوں کے سامنے رکھا جائے، باہمی افہام و تفہیم اور مصالحت سے اسے حل کیا جائے۔
(5) شادی بیاہ کی رسومات میں جانبین سے جو اخراجات کیے گئے، ان کی حیثیت تبرع کی ہے، لہذا اس کا مطالبہ فریقین میں سے کسی کے لیے جائز نہیں۔
(6) جو اشیا تحفہ میں دی جائیں وہ ان (لینے والوں) کی ملکیت بن جاتی ہیں، بعد ازاں ان کی واپسی کا مطالبہ درست نہیں۔
