پہلے شوہر سے ملی ہوئی جائیداد میں دوسرے شوہر کی اولاد کا حق

زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0206
سوال

زید کی شادی ناصرہ سے ہوئی، جس سے اس کا ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اس کے بعد زید کا انتقال ہوگیا اور اس کی وراثت اس کے بیٹے اور بیوہ ناصرہ وغیرہ میں تقسیم ہوگئی۔ عدت کے بعد ناصرہ نے بکر سے شادی کرلی۔ اس سے بھی ایک بیٹا پیدا ہوا، جس کے بعد ناصرہ کا انتقال ہوگیا۔ ناصرہ کی وراثت صرف وہی جائیداد ہے، جو اس کو پہلے شوہر زید کی وراثت میں ملی تھی تو اس جائیداد میں ناصرہ کے دونوں بیٹے وارث ہوں گے یا صرف پہلے شوہر زید کا بیٹا؟

جواب

ناصرہ کو اپنے پہلے شوہر زید کی طرف سے جو حصۂ وراثت ملا، شرعی طور پر وہ اس کی مکمل مالک بن گئی۔ اس حصۂ وراثت اور اس کی دیگر املاک میں کوئی فرق نہیں۔ چناں چہ ناصرہ کی وفات کے بعد اس کی تمام اَملاک اُس کے شرعی ورثا میں تقسیم ہوں گی۔ اور ناصرہ کے دونوں بیٹے اپنی والدہ کی میراث میں بغیر کسی کمی بیشی کے یکساں طور پر شریک ہوں گے۔

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
فروری 05, 2026 @ 03:47شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں