شوہر کی طرف سے مختلف اوقات میں دی ہوئی طلاقوں کا حکم

زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0203
سوال

میرے شوہر نے ایک وقت میں مجھے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے، بعد ازاں مجھ سے رجوع کرنے کو کہا اور میں نے رجوع کرلیا۔ پھر کچھ عرصہ بعد انہوں نے دو مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے اور دوبارہ رجوع کرلیا۔ اس کے بعد کچھ مدت گزری، تو انہوں نے پھر تین مرتبہ طلاق کہی۔ مزید یہ کہ تقریباً چھ ماہ قبل انہوں نے طلاق تحریری طور پر کاغذ پر لکھ کر مجھے پڑھائی اور پھر وہ کاغذ چھپا لیا۔
اب یہ دریافت کرنا ہے کہ ان صورتوں میں شرعاً طلاق واقع ہوچکی ہے یا نہیں؟​

جواب

صورت مسئولہ میں آپ کے شوہر نے جب پہلی مرتبہ آپ کو تین بار طلاق کے الفاظ کہے تھے، تو اس سے تینوں طلاقیں واقع ہوکر رجوع کی گنجائش ختم ہوچکی تھی۔ اس کے بعد دونوں کا بطور میاں بیوی رہنا حرام تھا۔ پس آپ دونوں پر لازم ہے کہ فی الفور جدا ہو جائیں اور اتنا عرصہ ناجائز تعلق پر اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کریں۔

مقام
اسلام آباد
تاریخ اور وقت
فروری 03, 2026 @ 07:46صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں