زمره
فتوی نمبر
سوال
جب قرآن و سنت ہمارے پاس موجود ہیں، تو بیچ میں جو صحابہ، تابعین، ائمہ کرام یا اولیاء اللہ ہیں، ان کی تقلید کی ہمیں کیا ضرورت ہے؟ ہم براہ راست قرآن و سنت سے استفادہ کیوں نہیں کر سکتے؟
جواب
قرآن حکیم اور سنتِ رسول ﷺ بلا شبہ دین کے اصل مآخذ اور ہدایت کے سرچشمے ہیں، جبکہ صحابہ، تابعین، ائمہ کرام اور اولیاء اللہ کا کردار اس کی درست تفہیم اور عملی تعبیر ہے۔ یہ دو متضاد راستے نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ ایک اصل ہے تو دوسرا اس تک پہنچنے کا باضابطہ اور مستند ذریعہ۔
ایک مسلمان اس بات کا پابند ہے کہ اس کا کوئی بھی عمل قرآن و حدیث کے تقاضوں کے منافی نہ ہو۔ ایسے میں روز مرہ پیش آمدہ مسائل میں ہر شخص میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ براہ راست قرآن و حدیث سے مسائل کے احکام کا استنباط کرسکے کہ کون سی چیز جائز ہے، کون سی ناجائز؟ کس چیز کا کرنا ضروری ہے اور کس سے بچنا لازم؟ کون سا عمل مستحب ہے اور کون سا مکروہ؟ کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام؟ اس لیے ضروری ہے کہ اہل علم لوگوں کی طرف رجوع کیا جائے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
فَسْئَلُوْٓا اَهْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(1)
(سو اگر تمہیں معلوم نہیں، تو اہل علم سے پوچھ لو!)
جمہور علمائے امت، اس بات پر متفق ہیں کہ شرعی احکام کی بجا آوری اور فہمِ دین کے لیے ائمہ اربعہ (امامِ اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ) میں سے کسی ایک کی تقلید واجب ہے۔
ان ارباب عزیمت نے امتِ مسلمہ کی سہولت کی خاطر کمالِ دیانت اور جاں فشانی سے قرآن و سنت کی عطر بیزیوں کو فقہی مسائل کی صورت میں مرتب کیا۔ ان حضرات نے شریعت کے ایسے مستحکم اور غیر متبدل اصول و قواعد وضع کیے، جن کی بدولت عامۃ الناس کے لیے پیچیدہ مسائل کا حل اور احکامِ الٰہی پر عمل پیرا ہونا سہل ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرونِ اولٰی سے آج تک بڑے بڑے علماء و فقہاء نے انہی کے اقوال کو سند مانتے ہوئے امت کی رہنمائی کی۔
ان حضرات کی پیروی اور ان پر اعتماد ہی درحقیقت قرآن و سنت کی پیروی کا سب سے محفوظ اور معتمد راستہ ہے۔
حضرت امام شاہ ولی ﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”و بالجملة فالتمذهب للمجتهدین سر ألهمه اللہ تعالی العلماء و تبعهم علیه من حیث یشعرون أو لا یشعرون“(2)
(خلاصہ یہ کہ ائمہ اربعہ کے مذاہب کی تقلید پر تمام علماء کا شعوری یا غیر شعوری طور پر اتفاق کرلینا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک الہام اور حکمتوں پر مبنی ایک راز ہے)
ایک اور جگہ رقم طراز ہیں:
”أن الامة قد اجتمعت علی ان یعتمدوا علی السلف فی معرفة الشریعة، فالتابعون اعتمدوا فِی ذلک علی الصحابة، و تبع التابعین اعتمدوا علی التّابعین، و هکذا فی کل طبقة إعتمد العلماء علی من قبلهم.“ (3)
(امت نے اجماع کر لیا ہے کہ شریعت کی معرفت میں سلف صالحین پر اعتماد کریں گے۔ تابعین نے اس معاملہ میں صحابہ کرام پر اعتماد کیا اور تبع تابعین نے تابعین پر اعتماد کیا۔ اسی طرح ہر طبقہ کے علماء نے اپنے سے پہلے آنے والوں پر اعتماد کیا۔)
جس طرح علاج معالجہ کے لیے ایک ماہر طبیب کی طرف رجوع اور اس پر اعتماد لازمی ہے، اسی طرح دین کی باریکیوں کو سمجھنے اور شرعی احکام و مسائل پر شریعت کے تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہونے کے لیے ائمہ مجتہدین کی تقلید اور ان کی فقہی بصیرت پر اعتماد ناگزیر ہے، تاکہ عام مسلمان تذبذب اور بے راہ روی سے محفوظ رہ کر صالح اجتماعیت کا حصہ رہیں۔
(1) 16- النحل: 43۔
(2) الانصاف في بيان اسباب الاختلاف، (بیروت، دار ابن حزم)، ص: 115
(3) عقد الجید، (کراچی، مطبع سعیدی)، ص: 54
