زمره
فتوی نمبر
سوال
ایک مشترکہ کاروبار (Partnership Business) میں زکوٰۃ کے حساب کتاب کے حوالے سے درج ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:
(1) کیا زکوٰۃ صرف سالانہ منافع پر ہوگی یا کاروبار میں موجود تمام تجارتی مال (اسٹاک) پر ادا کرنی ہوگی؟
(2) مارکیٹ میں لوگوں کے ذمہ واجب الادا بقایا جات پر بھی زکوۃ ادا کرنا ہوگی؟
(3) کاروبار کے لیے استعمال ہونے والی مشینری اور پراڈکٹ سپلائی کرنے والی گاڑیوں پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟ نیز حکومت کو ادا کردہ ایڈوانس ٹیکس، اسی طرح کچھ ایڈوانس رقم سٹاف کو بھی ادا کردی ہے، کیا اس پر زکوۃ ہوگی؟
(4) ہمارے ذمہ کاروباری قرض، سٹاف کی تنخواہ، نیز اور ماہانہ اخراجات جیسے گیس، پانی اور بجلی وغیرہ، کیا ان رقوم کو زکوٰۃ نکالتے وقت کل مالیت سے منہا (Minus) کیا جائے گا؟
جواب
(1) سال کے اختتام پر حاصل شدہ نفع اور سٹاک میں موجود سامان کی قیمت فروخت، دونوں پر زکوۃ واجب ہے۔
(2) لوگوں کے ذمہ واجب الادا رقم، جس کے ملنے کی امید ہو، اس پر بھی زکوۃ ادا کرنا ضروری ہے۔
(3) کاروبار میں استعمال ہونے والی مشینری اور گاڑیوں پر زکوۃ نہیں، کیوں کہ وہ اموال تجارت نہیں۔ نیز جو رقم بطور تنخواہ، ایڈوانس ادا کردی گئی، اس پر بھی زکوۃ نہیں۔
(4) جی ہاں! ان تمام اخراجات کو زکوۃ نکالتے وقت، کل مالیت سے منہا کیا جائے گا۔
