داڑھی کی شرعی حد

زمره
حقوق و آداب معاشرت
فتوی نمبر
0213
سوال

احادیث میں داڑھی بڑھانے کے حکم کی شرعی حد کیا ہے اور کیا ایک مٹھی سے کم داڑھی والے کی امامت جائز ہے؟

جواب

احادیثِ مبارکہ میں داڑھی بڑھانے کا حکم مطلقاً وارد ہوا ہے، جیسا کہ بخاری شریف کی روایت ہے:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ”خَالِفُوا الْمُشْرِکِينَ وَفِّرُوا اللِّحَی وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ“(1)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں باریک کرو۔“
​ اس حکم کا ظاہری تقاضہ داڑھی کو نہ کٹوانا معلوم ہوتا ہے، لیکن دیگر روایات اور تعامل صحابہ سے اس کی ایک خاص متعین حد معلوم ہوتی ہے جیسا کہ ترمذی شریف کی روایت ہے:
أَنَّ النَّبِيَ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِنْ عَرْضِهَا وَطُولِهَا(2)
​’’نبی کریمﷺ اپنی داڑھی مبارک چوڑائی اور لمبائی میں کاٹا کرتے تھے۔“
​اور اس کاٹنے کی صحیح مقدار تعامل صحابہ سے معلوم ہوتی ہے جیسا کہ گزشتہ پہلی حدیث کے اگلے حصے میں حضرت عبد اللہ بن عمر کا عمل نقل کیا گیا ہے:
​وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَی لِحْيَتِهِ فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ.
​حضرت ابن عمر جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو اضافی ہوتی اس کو کاٹ دیتے۔
​چوں کہ حضرت عبداللہ بن عمر خود داڑھی بڑھانے والی روایت کے راوی ہیں، اس لیے ان کا اپنا عمل اس حدیث کی تشریح ہے کہ بڑھانے سے مراد ایک مٹھی تک بڑھانا ہے۔
نیز حضرت ابو زرعہ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کا عمل نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”کَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْبِضُ عَلَی لِحْيَتِهِ ثُمَّ يَأخُذُ مَافَضَلَ عَنِ القُبْضَةِ“(3)
​’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور مٹھی سے زائد کو کاٹ دیتے تھے۔‘‘
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا لمبائی و چوڑائی میں ڈاڑھی کترنا اس مقدار اور کیفیت سے ہوتا تھا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس عمل کی بنا پر جمہور فقہاء اور سلف صالحین کے نزدیک ایک مٹھی کی حد تک داڑھی رکھنا واجب ہے اور اس مقدار سے کم کرنا سنت مستمرہ کے خلاف ہے۔
جہاں تک امامت کا تعلق ہے، تو جو شخص واجب کا تارک ہو اسے قصدًا امام بنانا درست نہیں، تاہم مسلمانوں کی اجتماعیت کو برقرار رکھنے اور جماعت کے ثواب کے حصول کے لیے اگر ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے تو نماز ادا ہو جائے گی، اگرچہ منصب امامت کا استحقاق یہ ہے کہ اس کے لیے کسی باشرع اور متقی شخص کا انتخاب کیا جائے۔​


(1) الجامع الصحیح للبخاری، کتاب اللباس، باب تقلیم الاظفار، حدیث: 5592
(2) ترمذی، ابواب الادب عن رسول اللہ ﷺ، باب ما جاء فی الاخذ من اللحیۃ، حدیث: 2762
(3) المصنف لابن ابی شیبہ، کتاب الادب، ما قالو فی الاخذ من اللحیۃ، 112/13، رقم: 25992

مقام
عارف والا
تاریخ اور وقت
جنوری 30, 2026 @ 07:29شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں