قرآن پاک دیکھ کر نماز پڑھنا

زمره
عبادات و اخبات الٰہی
فتوی نمبر
0225
سوال

(1) ہمارے ہاں امریکا میں دو مسجدیں ہیں، ایک میں 8 رکعات تراویح پڑھائی جاتی ہے، لیکن قرآن پاک مکمل نہیں کرتے۔ دوسری مسجد میں 20 رکعات تراویح پڑھائی جاتی ہے اور وہاں قرآن پاک کو سامنے رکھا ہوتا ہے، جہاں غلطی آتی ہے، وہاں رکعت کے دوران ہی اس کی درستگی کردی جاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ میں کس مسجد میں تراویح پڑھوں؟
(2) قرآن پاک سے دیکھ کر پڑھنے کی ایک روایت حضرت عائشہ صدیقہ کے غلام کے بارے میں بھی ملتی ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟
براہ کرم دلائل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

(1) قرآن پاک سے دیکھ کر نماز پڑھنے کے حوالے سے امام اعظم ابو حنیفہؒ کا مؤقف ہے کہ نمازی کے لیے قرآن کریم سے دیکھ کر قرأت کرنا جائز نہیں۔ کیوں کہ قرآن پاک اٹھانا، اوراق پلٹنا، اس میں دیکھنا اور غور و فکر کرنا (کہ کون سی آیت کہاں ہے) عمل کثیر ہے اور عمل کثیر سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ لہذا اگر کسی نے نماز میں قرآن پاک سے دیکھ کر تلاوت کی خواہ اس نے تھوڑی قرأت کی ہو یا زیادہ، وہ امام ہو یا تنہا نماز پڑھ رہا ہو، اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔
وإذا قرأ المصلي من المصحف فسدت صلاته، وهذا قول أبي حنيفة، وقال أبو يوسف ومحمد؛ لا تفسد. حجتهما: أن عائشة أمرت ذكوان بإمامتها وكان ذكوان يقرأ من المصحف، ولأبي حنيفة وجهان: أحدها: إن حمل المصحف وتقليب الأوراق والنظر فيه والتفكر ليفهم ما فيه فيقرأ عمل كثير، والعمل الكثير مفسد لما نبيّن بعد هذا، وعلى هذا الطريق يفرق الحال بينهما إذا كان المصحف في يديه أو بين يديه أو قرأ من المحراب والله أعلم. الوجه الثاني: إنه تلقّن من مصحف فكأنه تلقن من معلم آخر، وذلك يُفسِد الصلاة فهذا كذلك.(1)

لیکن اگر قرآن پاک دیکھ کر صرف دل ہی دل میں پڑھا، قرأت نہ کی، تو اس کے جائز ہونے پر کسی کا اختلاف نہیں، جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے:
ولو نظر إلى مكتوب هو قرآن وفهمه لا خلاف لأحد أنه يجوز (2)

نیز سلف صالحین میں سے بعض حضرات کی رائے میں کسی مجبوری کے سبب قرآن پاک سے دیکھ کر تلاوت کرنا جائز ہے؛ مثلاً وہ نو مسلم جسے ابھی قرآن یاد نہ ہوا ہو، یا ایسا شخص جسے نماز کے لیے ضروری سورتیں حفظ نہ ہوں اور دیکھ کر پڑھنے کے علاوہ اس کے لیے کوئی چارہ نہ ہو۔ اس بارے میں امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں:
”ما ‌يعجبني ‌إلا أَنْ يضطَّروا إلى ذَلِكَ فليسَ به بأس“ (3)
میں (نماز میں قرآن پاک دیکھ کر پڑھنے کو) مناسب نہیں سمجھتا، سوائے اس کے کہ لوگ اس کام کے لیے مجبور ہو جائیں، تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
نیز امام مالکؒ نے بھی اس کو اضطرار کی شرط کے ساتھ مشروط کیا ہے، چناں چہ ابن وہبؒ فرماتے ہیں ”میں نے امام مالکؒ سے سنا جب کہ آپ سے رمضان میں قرآن دیکھ کر نماز پڑھانے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا:
”لا بأس بذلک إذا اضطروا إلی ذلک“(4)
​کوئی حرج نہیں اگر لوگ اس طرف مجبور ہوں۔

​لہٰذا بہتر صورت یہ ہے کہ آپ 8 رکعات تراویح باجماعت ادا کریں اور بقیہ 12 رکعات اپنے کسی ساتھی کے ساتھ مل کر مکمل کریں۔ اگر کوئی ساتھی دستیاب نہ ہو تو بقیہ نماز انفرادی طور پر ادا کرنی چاہیے۔

(2) یہ حدیث صحیح بخاری کتاب الاذان میں درج ہیں، جس کی درست توضیح یہ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے غلام ذکوان نماز شروع کرنے سے پہلے ایک بار قرآن پاک دیکھ لیتے تھے تاکہ اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے، پھر نماز پڑھاتے تھے۔ چناں چہ اس حدیث کی شرح میں علامہ عینی‬ؒ رقم طراز ہیں:
”أثر ذكوان إن صح فهو محمول على أنه كان يقرأ ‌من ‌المصحف ‌قبل ‌شروعه في الصلاة أي ينظر فيه ويتلقن منه ثم يقوم فيصلي، وقيل: تؤول بأنه كان يفعل بين كل شفعين فيحفظ مقدار ما يقرأ في الركعتين، فظن الراوي أنه كان يقرأ من المصحف فنقل ما ظن۔“ (5)
”سیدنا ذکوان کی حدیث کو اگر صحیح مان لیا جائے تو اس بات پر محمول ہوگا کہ ذکوان نماز شروع کرنے سے پہلے قرآن دیکھتے تھے، پھر ذہن نشین کرکے نماز پڑھاتے تھے، اور یہ بھی کہا گیا ہے اس بات پر جو چیز دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ذکوان ہر دو رکعت بعد یہ عمل کرتے اور اگلی دو رکعت میں جتنا پڑھنا ہوتا وہ یاد کر لیتے۔ اسی کو راوی نے یہ گمان کرلیا کہ وہ قرآن دیکھ کر قراءت کرتے تھے۔“


(1) المحیط البرھانی (بیروت، دار الکتب العلمیۃ) کتاب الصلاة ،‌‌الفصل السادس عشر في التغني والألحان، 391/1۔
(2) فتاوی عالمگیری، (بیروت، دار الفکر)،کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ، 101/1۔
(3) الجامع لعلوم امام احمد، (مصر، دار الفلاح)، كتاب الصلاۃ، فصل فی قیام رمضان، 433/6، رقم: 528)
(4) کتاب المصاحف، (بیروت، دار البشائر الاسلامیہ)، و قد رخص فی الامامۃ فی المصاحف، 661/5، رقم: 808)
(5) البنایہ شرح ہدایہ، (بیروت، دار الکتب العلمیۃ)، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فیھا، 421/2

مقام
کیلیفورنیا، امریکا
تاریخ اور وقت
جنوری 30, 2026 @ 02:48شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں