مجبوری کے سبب عدت میں نہ بیٹھنا

زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0187
سوال

میں شوہر کی وفات کے بعد اپنی مرضی سے عدت میں نہیں بیٹھی کیوں کہ میرا ماننا ہے کہ اسلام ایک پریکٹیکل مذہب اور دینِ فطرت ہے، انسان کی فطرت کے خلاف یعنی آپ کی خواہشات کے خلاف نہیں جاتا۔ اور میں جتنا دین کو سمجھی ہوں، جتنی اللہ نے مجھے اس کی توفیق دی، اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آپ کو خود گائیڈ کریں گے۔ اسلام نے عورتوں کی کفالت کی ذمہ داری مردوں پر عائد کی ہے، لیکن آج کے دور میں ایک عورت جو خود کفیل ہے، اسے اس ملک میں چار مہینے کی چھٹی کون دے گا کہ وہ عدت میں بیٹھی رہے؟ جس عورت نے اپنے خرچے خود اٹھانے ہیں، اس کے بچے ہیں، ان کو اسکول لے کر جانا ہے، واپس لانا ہے تو کیا اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنے کام کے لیے نکلے اور بقیہ وقت اپنے گھر میں رہے؟

جواب

اسلام بلاشبہ دینِ فطرت ہے، جو انسان کو ان خواہشات کی تکمیل سے نہیں روکتا، جو حدودِ شرع سے متصادم نہ ہوں۔ دینی تعلیمات کی وسعت اور رحمت کا عالَم تو یہ ہے کہ جہاں انسان بے بس ہو جائے اور اس کا اپنا اختیار نہ رہے تو وہاں شریعت آسانی اور سہولت کی راہ دکھاتی ہے۔ جب کہ عدت کا مقصد شوہر کے انتقال پر غم کا اظہار اور ان کے حقِ زوجیت کا احترام ہے ، لہذا عدت کی مدت میں بناؤ سنگھار کرنا، بلا عذرِ شرعی گھر کی چار دیواری سے باہر نکلنا اور سفر کرنا، درست نہیں۔ تاہم ضروریات زندگی کے حصول اور علاج معالجہ کے لیے گھر سے باہر نکلنا شرعی عذر ہے۔ لہٰذا اگر عدت کی پابندی نہ کرنا محض اپنی خواہش کے تحت ہے، تو یہ عمل قرآنی تعلیمات کے خلاف اپنے نفس کی پیروی ہے۔ اس سے بچنا چاہیے۔ اس کے برعکس اگر آپ کی صورت حال واقعی ان مجبوریوں کے تحت ہے، جن کا سوال میں ذکر کیا گیا ہے، تو از روئے شرع ناگزیر حالات میں گھر سے نکلنے کی گنجائش موجود ہے۔

مقام
نوشہرہ
تاریخ اور وقت
جنوری 26, 2026 @ 04:03شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں