سنن و نوافل کے بغیر صرف فرض نماز ادا کرنا

زمره
عبادات و اخبات الٰہی
فتوی نمبر
0189
سوال

حضرت! مجھ سے نماز کی پابندی نہیں ہو پارہی تھی، جس کے حل کے طور پر اپنے آپ کو ہر صورت نماز کا پابند بنانے کے لیے، میں نے صرف فرض نماز پڑھنا شروع کی۔ فجر کی سنتیں اور عشاء کے وتر بھی پڑھتا ہوں۔ دیگر نمازوں کی سنتیں اور نوافل نہیں پڑھتا۔ اس طریقے سے نماز کی پابندی اور باقاعدگی پیدا ہو گئی ہے۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب

ماشاءاللہ! جب نماز کی پابندی اور باقاعدگی پیدا ہوگئی ہے، تو اب فرض نمازوں کے ساتھ سنن مؤکدہ کا اہتمام بھی شروع کردیں۔ رسول اللہ ﷺ نے خود بھی فرض نمازوں کے ساتھ سنن مؤکدہ کا خوب اہتمام فرمایا اور ان کی ترغیب دی۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَنْ ثَابَر عَلَى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِّنَ السُّنَّةِ بَنَى اللَّهُ لَہٗ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ: أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ“(1)
”جو شخص بارہ رکعت سنت پر ثابت قدمی اختیار کرے گا، اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا:
چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے۔“
سنتِ نبوی ﷺ سے وابستگی ہی اصل اطاعت ہے۔ باقی سننِ غیر مؤکدہ اور نوافل کی ادائیگی مستحب ہے، جن کا پڑھنا موجبِ ثواب ہے اور ترک کرنا باعثِ گناہ نہیں۔


(1) الجامع للترمذي، باب ما جاء فيمن صلى في يوم وليلة ثنتي عشرة ركعة من السنة ما له فيه من الفضل، حدیث: 414

مقام
لیاقت پور
تاریخ اور وقت
جنوری 24, 2026 @ 07:22صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں