زمره
فتوی نمبر
سوال
میری بیوی ”حدیقہ“ نے شادی کے اڑھائی سال بعد 25 اگست 2023ء کو سٹی کورٹ کراچی سے خلع کی ڈگری حاصل کی، جس میں میری رضامندی شامل نہیں تھی۔ خلع کے مقدمے میں حدیقہ نے مجھ پر الزامات لگائے، مگر ان کے حق میں کوئی گواہ پیش نہ کیا۔ میں نے تمام جھوٹے الزامات کا رد کیا کیوں کہ میں 25 اگست 2023ء کو عدالت میں موجود تھا اور میں نے اس خلع میں، واضح طور پر عدم رضامندی ظاہر کی۔ اس کے باوجود جج نے پاکستانی قانون کے تحت یک طرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری کی اور حقِ مہر (10,000 روپے) کو بدلِ خلع قرار دیا۔ نہ میں نے حقِ مہر واپس لیا، نہ خلع قبول کیا اور نہ ہی کسی کاغذ یا ڈگری پر دستخط کیے۔ میں اس عدالتی فیصلے پر راضی نہیں ہوں۔
اس تفصیل کے بعد میرے سوالات یہ ہیں کہ:
(1) کیا جج کا اپنی مرضی سے بدلِ خلع مقرر کرکے، خلع کی ڈگری جاری کرنے سے خلع واقع ہو گیا ہے؟
(2) اگر خلع واقع نہیں ہوئی اور میری بیوی کہیں اور نکاح کرتی ہے، تو شرعاً اس نکاح، اس میں شریک لوگوں اور نکاح پڑھانے والے کا کیا حکم ہے؟
(3) عوام الناس میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ جب میری بیوی حدیقہ 2023ء سے میرے ساتھ نہیں ہے، تو خود بخود طلاق واقع ہوچکی ہے، جب کہ بعض افراد کا یہ کہنا ہے کہ جہیز کا سامان واپس کردینے سے خلع واقع ہوچکا ہے۔ اس پر شرعی رہنمائی فرمائیں۔
(4) اور جو عورت بلاوجہ عدالت سے ڈگری لے کر والدین کے گھر پر موجود ہو، کیا وہ شوہر کی جانب سے نان نفقہ کی حقدار ہے؟
(5) بعض لوگ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی حدیث کا حوالہ دے کر عورت کی ناپسندیدگی کو یک طرفہ خلع کے لیے جائز قرار دیتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟
(6) اور بعض لوگ حضرت خنساء بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا والی روایت کے حوالے سے عدالتی فسخِ نکاح کو، بیوی کی ناپسندیدگی کی صورت میں صحیح قرار دیتے ہیں۔ اس کا جواب چاہیے۔ واضح رہے کہ میرا اور حدیقہ کا نکاح ہماری رضامندی سے ہوا ہے۔ کوئی زور زبردستی نہیں کی گئی۔
جواب
(1) شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع معتبر نہیں، لہذا نکاح بدستور قائم ہے۔
(2) جب شوہر نے طلاق یا خلع نہیں دیا تو دوسری جگہ نکاح کرنا حرام ہے۔ نکاح خواں، نکاح کی تقریب میں شریک لوگ اور گواہ سخت گناہ گار ہوں گے۔
(3) خود بہ خود طلاق واقع نہیں ہوتی اور نہ ہی جہیز کا سامان واپس کرنے نے سے خلع واقع ہوتا ہے۔ اس طرح کے پیش آمدہ مسائل میں، لوگوں کی آراء پر عمل کرنے کے بجائے مستند علما سے شرعی مسئلہ معلوم کرنا چاہیے۔
(4) اگر بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے والدین کے گھر چلی جائے، تو شوہر پر اس کا نان و نفقہ لازم نہیں۔
(5) یہ بات درست نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی کی خلع کی درخواست ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی رضامندی کے بعد ہی قبول فرمائی تھی۔
(6) حضرت خنساء بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ان کے والد نے ان کی رضامندی کے بغیر کیا تھا۔ چوں کہ عورت کی رضامندی کے بغیر نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس نکاح کو رد فرما دیا تھا۔ جب کہ آپ کے بقول آپ کا نکاح باہمی رضامندی سے ہوا ہے، لہذا محض ذاتی ناپسندیدگی کی بنیاد پر فسخ نکاح درست نہیں۔
