جاندار کی تصویر کا حکم

زمره
حظر و اباحت
فتوی نمبر
0175
سوال

میں ایک گیم پروگرامر ہوں، لیکن مجھے عام طور پر گیم میں کردار کی ڈیزائننگ پسند ہے۔ اور مصنوعی ذہانت (AI) کی بدولت میں اب خود اپنا کردار ڈیزائن کر سکتا ہوں۔ میں نے یہ پڑھا ہے کہ ہمارے محبوب پیغمبر حضرت محمد ﷺ نے جاندار جیسے انسان اور جانور کی تصاویر بنانے کو حرام قرار دیا ہے، لیکن میں نے کچھ روبوٹس کی کارٹون نما شکلیں بنائی ہیں، جن کو میں نے جان بوجھ کر مشینی بنایا ہے، کیوں کہ روبوٹ میں زندگی نہیں ہوتی، اور دھاتوں سے بنے روبوٹ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے ساتھ مقابلہ نہیں کرتے۔ اس بارے میں رہنمائی درکار ہے۔

جواب

جانداروں کی تصاویر بنانے سے متعلق رسولِ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:
”اللہ کے پاس قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو سخت سے سخت تر عذاب ہو گا۔“[1]
امام شاہ ولی اللہؒ کی رائے میں جو تصویر سازی ارفاہ (غیر ضروری آسائش پسندی) وزینت کا باعث ہو کہ لوگ اس میں باہم فخریہ مقابلہ کریں اور خطیر مال صرف کریں اور جو تصاویر بت پرستی کا باعث بن سکتی ہیں، نیز جس تصویر سازی میں مُصَوِّر ہمہ وقت گم رہتا ہو، تو ان کے بارے میں احادیث نبویہ میں شدید وعید ذکر کی گئی ہے۔[2]
اس مضمون کی متعدد احادیثِ مبارکہ میں تصویر سازی پر شدید وعید بیان کی گئی ہے۔ ان واضح نصوص کی بنا پر جمہور فقہاء کے نزدیک جانداروں کی تصویریں بنانا اور بنوانا دونوں ناجائز بلکہ حرام ہیں۔ البتہ جدید ڈیجیٹل تصاویر عہد حاضر کی صنعت ہے، جن کے بارے میں اہل علم کی آراء میں اختلاف ہے؛ جو اس کو محض عکس (reflection ) کے حکم میں شمار کرتے ہیں، ان کی رائے میں جائز مصلحت کے پیشِ نظر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے کارٹون نما تخیلاتی صورتیں بنانے کی شرعًا گنجائش ہے۔ تاہم وقت اور توانائی کو اس طرح کے غیر پیداواری سرگرمیوں میں صرف کرنے کے بجائے خدمت خلق، سماجی بہبود اور رفاہ عامہ کے کار آمد شعبوں میں صرف کرنا زیادہ بہتر اور مستحسن ہے۔


[1] صحيح البخاري، كتاب اللباس، حدیث: 5950
[2] حجة الله البالغة، باب اللباس والزينة والأواني ونحوها، 483/2

مقام
بورے والا
تاریخ اور وقت
جنوری 16, 2026 @ 06:48شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں