تقسیمِ ترکہ سے قبل فوت ہوجانے والے ورثا کے حصے کا حکم

زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0180
سوال

ایک شخص فوت ہوا، اس کے ورثا میں تین بیٹے دو بیٹیاں اور ایک زوجہ تھیں۔ وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی۔ ان کے ورثا میں اب صرف ایک بیٹا حیات ہے۔ جب کہ ایک بیٹی کی اولاد وراثت میں حصے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ وراثت کی کل مالیت 12 کروڑ ہے۔ اب ان میں وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟

جواب

​مرحوم کے انتقال کے بعد جو ورثا اس وقت حیات تھے، وہ اپنے اپنے حصے کے بقدر ترکہ میں شریک تھے۔ وراثت کی تقسیم سے قبل جو ورثا وفات پا چکے، اس کے حق دار ان کے ورثا ہیں۔ اس سلسلے میں مرحوم کی بیٹی کی اولاد کا مطالبہ درست ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں مرحوم کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (1/3) مال کی حد تک، اسے پورا کرنے کے بعد اگر کل ترکہ 12 کروڑ روپے کی صورت میں موجود ہے، تو اس سے درج ذیل تناسب سے ورثا میں شرعی طور پر تقسیم کیا جائے گا:
​1۔ مرحوم کی زوجہ مرحومہ کا حصہ ایک کروڑ پچاس لاکھ (1,50,00000) روپے (یہ رقم بیوہ کے شرعی ورثا میں تقسیم ہوگی)
​2۔ دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک کروڑ اکتیس لاکھ پچیس ہزار (1,31,25000) روپے (یہ رقم ان کے ورثاء کو دی جائے گی)
3۔ تین بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو کروڑ باسٹھ لاکھ پچاس ہزار (2,62,50000) روپے، از روئے شرعی تقسیم ملیں گے۔ (دو مرحوم بیٹوں کا حصہ بھی ان کے ورثا کو ملے گا۔)​

مقام
راولپنڈی
تاریخ اور وقت
جنوری 11, 2026 @ 08:32صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں