طلاق کے متفرق مسائل

زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0171
سوال

محترم مفتی صاحب ! میں آپ کی خدمت میں اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق حساس اور پیچیدہ معاملہ، شرعی رہنمائی کے لیے پیش کر رہا ہوں، جس میں طلاق، رجوع اور عدالتی خلع جیسے اہم امور شامل ہیں۔ براہِ کرم مکمل تفصیل ملاحظہ فرما کر شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
میری اور میری بیوی کی شادی باقاعدہ شرعی نکاح کے ساتھ ہوئی۔ شادی کے بعد باہمی رضامندی سے ہم لڑکی کے والدین کے گھر (سسرال) میں رہائش پذیر رہے، یعنی میری بیوی کبھی میرے ذاتی گھر میں مستقل طور پر نہیں رہی، بلکہ میں خود بھی زیادہ تر سسرال میں مقیم رہا۔ کچھ گھریلو اختلافات کی بنا پر ایک موقع پر مجھ سے غصے کی حالت میں صرف ایک طلاق صادر ہوئی۔ یہ طلاق میں نے ہوش و حواس میں دی، مگر اس کے بعد مجھے ندامت ہوئی اور میں نے دورانِ عدت رجوع کر لیا۔ رجوع کے بعد ہم میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہتے رہے اور ازدواجی حقوق بھی ادا کرتے رہے۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد ہمارے درمیان معمولی جھگڑا ہوا، جس میں، میں نے اپنے کچھ جاننے والوں کو بذریعہ فون کال یہ کہا کہ ”ایک طلاق میں نے اس کو پہلے دی ہوئی ہے، باقی جب آپ آؤ گے، آج دوں گا“ لیکن اس دن میں نے کوئی طلاق نہیں دی۔ بعد میں میرے بعض جاننے والوں نے بار بار یہ کہنا شروع کر دیا کہ ”تم نے دوسری لڑائی میں بھی طلاق دی تھی۔“ میں مسلسل یہی کہتا رہا کہ ”میں نے صرف پہلی لڑائی میں ایک طلاق دی ہے“، لیکن جاننے والوں کی مسلسل ضد، دباؤ اور بار بار کے الزامات کی وجہ سے شدید ذہنی الجھن پیدا ہو گئی۔ اسی ذہنی دباؤ میں آکر میں نے اپنے پیر و مرشد کو فون کیا، اور پہلی طلاق کو شامل کرکے کہہ دیا کہ ”میں نے دو طلاقیں دی ہیں“، حال آں کہ یہ بات نہ میرے ارادے کے مطابق تھی، نہ حقیقت میں درست تھی۔ اس کے برعکس، میری بیوی بھی حلفاً اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ میں نے صرف ایک ہی طلاق دی تھی، دو طلاقیں ہرگز نہیں دیں۔ پھر سات، آٹھ دن بعد میں نے بیوی سے رجوع کر لیا تھا۔
اس رجوع کے کچھ عرصہ بعد میں روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب آ گیا۔ میری غیر موجودگی میں میری بیوی نے عدالت میں خلع کا مقدمہ دائر کردیا۔ عدالت میں اس نے یہ دعویٰ کیا کہ میں نے اسے گھر سے نکال دیا، اس سے رابطہ ختم کر دیا اور اس کا نان و نفقہ ادا نہیں کیا۔ حال آں کہ یہ تمام الزامات حقیقت کے خلاف ہیں۔ میں نے، نہ تو اسے اپنے گھر سے نکالا (کیوں کہ وہ میرے گھر میں رہتی ہی نہیں تھی، بلکہ سسرال میں ہماری رہائش تھی)، نہ میں نے کبھی اس سے رابطہ منقطع کیا، اور نہ ہی میں نے خرچہ دینا بند کیا۔ اس کے برعکس میرے پاس واٹس ایپ چیٹس، کال لاگز اور مالی لین دین کے ثبوت موجود ہیں، جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں مسلسل رابطے میں رہا اور حسبِ استطاعت خرچہ بھی دیتا رہا۔ عدالت نے مجھے بیرونِ ملک ہونے کے باوجود صرف ایک نوٹس جاری کیا، اور میری غیر حاضری میں میرا مؤقف سنے بغیر اور میری رضامندی کے بغیر یک طرفہ طور پر فسخِ نکاح (خلع) کا فیصلہ سنا دیا۔ میں نہ تو عدالت میں پیش ہو سکا اور نہ ہی میں نے خلع کو قبول کیا، اور نہ ہی میں نے کسی مرحلے پر اپنی بیوی کو خلع دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ یہ عدالتی فیصلہ مکمل طور پر یک طرفہ تھا۔ بعد ازاں اللہ کے فضل سے میرے اور میری بیوی کے درمیان صلح ہو چکی ہے۔ ہم دونوں اپنی سابقہ غلطیوں پر نادم ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ باعزت اور شرعی طریقے سے ازدواجی زندگی گزارنا چاہتے ہیں، اور دوبارہ اکٹھے رہنے پر متفق ہیں۔ مگر اس پورے معاملے میں شرعی حیثیت ہمارے لیے واضح نہیں ہو پا رہی، جس کی وجہ سے شدید ذہنی اضطراب ہے۔ لہٰذا میں آپ سے درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں:
(1) جب حقیقت میں صرف ایک طلاق دی گئی تھی اور دورانِ عدت رجوع بھی ہو چکا تھا، تو نکاح کی شرعی حیثیت کیا بنتی ہے؟
(2) پیر و مرشد کو دباؤ میں آکر پہلی طلاق شمار کرکے دو طلاق کہہ دینے سے، جب کہ نیت اور حقیقت میں ایسا نہ ہو، کیا شرعاً دو طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں؟ حال آں کہ پیر و مرشد سے بات چیت کے سات، آٹھ دن بعد رجوع بھی کیا تھا، ان الفاظ میں کہ ”تم میری بیوی ہو، میرے نکاح میں ہو“۔
(3) شوہر کی غیر موجودگی میں، اس کی رضامندی اور قبولیت کے بغیر، عدالت کا یک طرفہ خلع یا فسخِ نکاح کا فیصلہ شرعاً معتبر ہے یا نہیں؟
(4) اگر عدالتی فیصلہ شرعاً معتبر نہ ہو تو کیا ہمارا نکاح بدستور قائم ہے؟
(5) موجودہ صورتِ حال میں کیا ہمارے لیے نیا نکاح کرنا ضروری ہے، یا ہم بغیر نئے نکاح کے میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں؟
(6)اگر احتیاطاً نکاحِ ثانی کا مشورہ ہو تو اس کی شرائط کیا ہوں گی؟
براہِ کرم قرآن و سنت، فقہِ حنفی کی روشنی میں واضح، دوٹوک اور تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں، تاکہ ہم شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی ازدواجی زندگی کو درست طریقے سے آگے بڑھا سکیں۔
ہم میاں بیوی دونوں حلف دیتے ہیں کہ ہم نے اس بیان میں کوئی بات نہیں چھپائی۔ یہ بیان بالکل درست ہے۔​

جواب

(1) عدت کے دوران رجوع کی صورت میں نکاح برقرار ہے۔
(2) چوں کہ آپ نے پیر و مرشد سے بات کرتے ہوئے پہلی طلاق کو شمار کرکے مجموعی طور پر دو طلاقوں کا اقرار کیا، لہذا اس سے بیوی پر ایک اور طلاق واقع ہوگئی۔ پھر سات، آٹھ دن بعد ”تم میری بیوی ہو، میرے نکاح میں ہو“ کہنے سے رجوع ہوگیا۔
(3،4)خاوند کی رضامندی کے بغیر خلع معتبر نہیں۔ شوہر نان و نفقہ اور دیگر حقوق ادا کرتا تھا، تو فسخ نکاح بھی معتبر نہیں، لہذا نکاح بدستور قائم ہے۔
(5،6) سابقہ نکاح برقرار ہے۔ البتہ شوہر کو اب صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہے۔​

مقام
اوکاڑہ
تاریخ اور وقت
جنوری 07, 2026 @ 10:52شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں