زمره
فتوی نمبر
سوال
مفتی صاحب سے عرض یہ ہے کہ ملتان کینٹ میں ایک نئی مسجد تعمیر کی گئی جو کہ پرانی مسجد سے تقریباً ایک سو میٹر دور ہے، جس کو گیریژن مسجد کا نام دیا گیا ہے۔ پرانی مسجد پہلے ایک یونٹ کے لیے مختص تھی، اس کے امام صاحب نئی مسجد میں جماعت کراتے ہیں۔ علاوہ ازیں برقی آلات اور اے سی بھی نئی مسجد میں استعمال کیے گئے ہیں۔ ہمارے سینئر (boss) چاہتے ہیں کہ اگر اجازت ہو تو ہم پرانی مسجد کو بند کرکے وہاں کچھ اور تعمیر کے لیے وقف کردیں یا اس کی حیثیت بدل کر کسی اور مقصد جیسے کہ اسٹور یا لائبریری وغیرہ بنا سکیں۔ نئی مسجد اور پرانی مسجد ضم نہیں ہو سکتیں، کیوں کہ درمیان میں ایک عمارت اور ایک چھوٹی سڑک ہے۔ لہذا سوال یہ ہے کہ:
(1) کیا ہم پرانی مسجد کو منہدم کر سکتے ہیں؟
(2) اگر نہیں تو کیا اس کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟
(3) اگر دونوں صورتوں کی اجازت نہیں، تو پرانی مسجد کے استعمال کی وضاحت کردیجیے۔
جواب
نئی مسجد تعمیر ہونے کی صورت میں پرانی مسجد کو منہدم کرنا یا اس کی حیثیت تبدیل کرنا جائز نہیں اور نہ ہی اس کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، بلکہ باہمی مشاورت سے اس کو بھی آذان اور جماعت کا اہتمام کرتے ہوئے آباد رکھنے کی کوشش کی جائے۔ البتہ اگر وہ پرانی مسجد مصلّٰی تھی، تو اس کی حیثیت تبدیل کرکے کسی جائز مقصد کے لیے اسے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔
نوٹ: مصلّٰی سے مراد وہ جگہ ہے جو عارضی طور پر نمازوں کے لیے مختص کی گئی ہو، وہ جگہ کسی کی ملکیت ہوتی ہے، جب کہ مسجد تاقیامت وقف ہوتی ہے اور وہ کسی کی ملکیت نہیں ہوتی۔
