زمره
زکوٰۃ و صدقات
فتوی نمبر
0157
سوال
حضرت مفتی صاحب! ایک مسئلے میں شرعی رہنمائی درکار ہے:
(1) کیا بہن، بھائیوں کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟
(2) اگر دی جاسکتی ہے، تو کیا یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ زکوٰۃ ہے، یا ویسے ہی مدد کے نام پر دی جا سکتی ہے؟
جواب
(1) اگر بہن، بھائی یا دیگر قریبی رشتہ دار (جیسے چچا، ماموں، خالہ وغیرہ) شرعاً زکوٰۃ کے مستحق ہوں، تو انہیں زکوٰۃ دینا جائز ہے، بلکہ زیادہ افضل ہے، کیوں کہ اس میں زکوٰۃ کے ساتھ صلہ رحمی بھی ہے۔
(2) زکوٰۃ دیتے وقت مستحق کو یہ بتانا ضروری نہیں کہ دی جانے والی رقم مالِ زکوٰۃ ہے۔ اگر دینے والا بطور تحفہ دے اور دل میں زکوٰۃ کی نیت ہو، تو بھی زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے، بلکہ بتائے بغیر دینے سے مستحق کی عزتِ نفس محفوظ رہتی ہے اور وہ شرمندگی سے بچ جاتا ہے۔ نیز یہ مخفی صدقہ شمار ہوتا ہے، جس کا اللہ کے ہاں ثواب زیادہ ہے۔
مقام
بورے والا
تاریخ اور وقت
جنوری 02, 2026 @ 07:25صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
