زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0156
سوال
ایک خاتون قضائے الٰہی سے وفات پاگئیں، جس کے ورثا میں شوہر، والد، والدہ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں زندہ موجود ہیں۔ خاتون کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟
جواب
متوفیہ کی کل جائیداد میں سے تجہیز و تکفین کا خرچہ، اس پر کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی اور اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی میں اسے نافذ کرنے کے بعد باقی منقولہ و غیر منقولہ ترکہ کے کلچوراسی (84) حصے ہوں گے، جن میں سے چودہ حصے والد کو ، چودہ حصے والدہ کو، اکیس حصے شوہر کو، دس دس حصے ہر ایک بیٹے کو اور پانچ پانچ حصے ہر ایک بیٹی کو از روئے شرع ملیں گے۔
مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
جنوری 01, 2026 @ 07:16شام
ماخذ
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
