فرشتوں کے نام پر بچے کا نام رکھنا

زمره
حظر و اباحت
فتوی نمبر
0162
سوال

کیا فرشتوں کے نام پر بچے کا نام رکھنا جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو کس بنا پر؟ کیوں اگر ایسا ہوتا تو محمد نام رکھنے کی اجازت بھی نہ ہوتی۔

جواب

فرشتے چوں کہ انسانی اوصاف و کمالات سے ماوراء اور بشری احتیاجات و عوارض سے مُبَرّا ہیں، اس لیے بعض اہل علم کے نزدیک ان کے ناموں پر بچوں کے نام رکھنا خلاف اولٰی ہے۔ امام بخاری اپنی تاریخ میں ایک روایت لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
”انبیاء کے ناموں پر نام رکھو اور فرشتوں کے ناموں پر نام نہ رکھو۔“
راوی کہتے ہیں: ”میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ کے نام پر؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے نام پر رکھ سکتے ہو، لیکن میری کنیت (ابو القاسم) پر نہ رکھو۔“(1)

(واضح رہے کہ کنیت کی ہدایت عہد نبوی کے ساتھ مخصوص ہے)
نیز صحابہ و تابعین کے زمانے میں ان ناموں کا تعامل نہیں ملتا اور نہ ہی عرفِ عام میں ان ناموں سے وہ انسیت ہے جو انبیاء، صحابہ اور اولیاء اللّہ کے ناموں کے ساتھ ہے۔ لہذا فرشتوں کے نام پر بچے کا نام رکھنا مناسب نہیں۔


(1) التاريخ الكبير للبخاري بحواشي محمود خليل، (حیدر آباد دکن، دائرۃ المعارف الاسلامیة)، 5/ 35)

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
دسمبر 31, 2025 @ 04:36شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں