زمره
فتوی نمبر
سوال
کیا بینک میں رکھی ہوئی رقم سے حاصل ہونے والے منافع سے زکوٰۃ ادا کی جاسکتی ہے؟
مجھے اصل رقم جو ریٹائرمینٹ پر ملی ہے، اس کو میں نے بینک میں فکس کرایا ہے تاکہ حاصل شدہ رقم سے اپنے اور بیوی بچوں پر آنے والے اخراجات پورے ہو سکیں، کیوں کہ سوائے اس منافع کے، آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہیں۔ تو کیا اس رقم سے زکوۃ ادا کرستا ہوں؟ کیوں کہ اسی رقم سے ماہانہ بنیادوں پر رقم جمع کرتا رہتا ہوں تاکہ سال پورا ہونے پر زکوٰۃ ادا کرسکوں۔
جواب
جو رقم جس وقت بینک میں فکسڈ کرائی گئی تھی، اس کی اس وقت سونے کی مقدار کو بنیاد بنایا جائے گا، اس مقدار کے بقدر جو رقم بینک میں رہے گی، وہ آپ کی جائز ملکیت ہے اور اس پر سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کریں، اس سے زائد رقم جو نفع کی صورت میں ملے تو وہ شرعاً جائز اور درست نہیں، اس لیے کہ بینک اپنے صارفین سے رقم بطورِ قرض وصول کرتا ہے، اور شریعتِ مطہرہ میں قرض پر کسی قسم کا نفع لینا سود کے زمرے میں آتا ہے، جو قرآن و سنت کی روشنی میں ناجائز ہے۔ جو نفع حاصل ہوا ہے، اس کو ثواب کی نیت کے بغیر کسی مستحق کو دینا ضروری ہے۔
لہٰذا اس سودی نفع سے زکوٰۃ ادا نہیں کی جا سکتی، کیونکہ زکوٰۃ حقوقُ اللہ میں سے ہے، اور اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ مال ہی کو قبول فرماتا ہے۔
حدیثِ شریف میں ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
”أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا“ (1)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور صرف پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتا ہے۔“
1۔ (صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب قبول الصدقة من الكسب الطيب وتربيتها، حدیث: 1015)
