زمره
فتوی نمبر
سوال
زید اور بکر دو بھائی ہیں، دونوں شادی شدہ اور دونوں اپنے کمپیوٹر ٹریننگ ادارے میں شارٹ کورسز کرواتے ہیں، نفع اور نقصان میں برابر کے شریک ہیں۔ ان کی موجودہ مالی صورتِ حال درج ذیل ہے:
(1) دونوں کے پاس الگ الگ ذاتی گھر ہے، جس میں وہ رہائش پذیر ہیں۔
(2) دونوں کے پاس آدھا آدھا تولہ سونا ہے۔
(3) دونوں کے پاس الگ الگ 70 سی سی موٹر سائیکل ہے جو ذاتی استعمال میں ہے۔
(4) ایک مشترکہ گاڑی ہے جو دونوں روزانہ استعمال میں لاتے ہیں۔
(5) دونوں بھائیوں نے ایک ایک پلاٹ قسطوں پر لیا ہوا ہے، جو مستقبل میں بچوں کے استعمال کی نیت سے لیا گیا ہے۔
(6) ایک مشترکہ بینک اکاؤنٹ میں کل ڈیڑھ لاکھ روپے (150,000) کی رقم بھی جمع ہے، جس پر ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔
کیا اس صورت حال میں زید اور بکر پر زکوٰۃ فرض ہے؟ اگر ہے تو کتنی اور کس طرح ادا کی جائے؟ رہنمائی فرمائیں۔
جواب
ساڑھے سات تولے سونا، ساڑھے باون تولے چاندی، یا وہ نقدی اور مالِ تجارت جو ساڑھے سات تولے سونے کی مالیت کو پہنچ جائے، یا ان سب کو ملا کر ان کی مالیت ساڑھے سات تولے سونے کو پہنچ جائے، تو سال گزرنے کے بعد کل مالیت پر %2.5 فیصد زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔ نیز وہ اشیا جو تجارت کی نیت سے خریدی نہ گئی ہوں، ان پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔
لہذا بیان کردہ تفصیلات کی روشنی میں زید اور بکر میں سے کسی کے ذمے زکوۃ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اس جواب کا تعلق صرف بیان کردہ تفصیلات تک محدود ہے۔
