خریداری کرتے وقت بھاؤ تاؤ کرنا

زمره
بیوعات و معاملات
فتوی نمبر
0153
سوال

​میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم کپڑوں کا کاروبار کریں تو گاہک سے جتنا نفع ہم نے ایک سوٹ سے حاصل کرنا ہے، وہ نفع رکھ کر اس کو ریٹ بتائیں یا اس ریٹ سے زیادہ بتائیں؟ کیوں کہ گاہک ریٹ کم کرنے کا کہتا ہے۔ اور اگر ہم غلط ریٹ بتائیں تو جھوٹ بولنے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس کا بہتر حل بتا دیں! کیوں کہ آج کل گاہک ایک ریٹ پر سوٹ بیچنے میں ذہنی طور پر مطمئن نہیں ہوتا۔

جواب

کسی بھی چیز کو فروخت کرتے وقت بھاؤ تاؤ کرنا، یعنی ایک قیمت بتانے کے بعد خریدار کے مطالبے پر یا کسی اور وجہ سے اس میں کمی یا زیادتی کرنا شرعاً جائز ہے، شرط یہ ہے کہ معاملہ فریقین کی رضامندی سے طے پائے۔ اس میں دھوکا اور ناانصافی نہ ہو۔ شریعتِ مطہرہ میں خرید و فروخت کی بنیاد باہمی رضامندی پر ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
”بیع بیچنے والے اور خریدنے والے کی باہمی رضا مندی سے منعقد ہوتی ہے“۔
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 2185)
مناسب ہوگا کہ بیچنے والا چیز کی قیمت، خریدار کو اس طور پر بتا دے کہ خریداری کی صورت میں اس میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ البتہ اگر خریدار اس شرط پر چیز خریدے کہ بیچنے والا اسے اصل قیمت خرید (رأس المال) بتائے یا یہ بتائے کہ یہ چیز اسے کتنے کی پڑی ہے اور وہ اس پر کتنا نفع رکھے گا اور بیچنے والا اس شرط کو قبول کر لے، تو پھر بیچنے والے پر اصل قیمتِ خرید یا صحیح لاگت بتانا لازم ہوگا، اور اگر بیچنے والے نے قیمتِ خرید یا لاگت غلط بتائی اور خریدار کو بعد میں معلوم ہوگیا، تو اسے شرعاً معاملہ فسخ کرنے (چیز واپس کرنے) کا حق حاصل ہوگا، اور بیچنے والے پر لازم ہوگا کہ وہ چیز واپس لے۔​

مقام
جھنگ
تاریخ اور وقت
دسمبر 03, 2025 @ 09:15شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں