زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0195
سوال
خالد کے والد نے اپنی دوسری شادی والی عورت (سائل کی سوتیلی والدہ) کو تین بار ”طلاق طلاق طلاق“ لکھ کر دے دی اور پھر کسی سے فتویٰ لیکر دوبارہ اس عورت کو گھر لے آئے اور ہر طرح سے سمجھانے کے باوجود اس عورت کے ساتھ ازدواجی تعلقات رکھے، سب کے مشوروں سے بغاوت اور ہر طرح سے سمجھانے کے باوجود اپنی بات پر قائم رہے۔ ایسی صورت حال میں اولاد ان کو روکنے کے لیے، کس حد تک اپنا کردار ادا کر سکتی ہے؟
جواب
تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں۔ اسی پر جمہور صحابہ، تابعین، فقہاء بشمول ائمہ اربعہ متفق ہیں۔ لہذا تین طلاقوں کے بعد میاں بیوی کا اکھٹے رہنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ میاں بیوی کو چاہیے کہ فورًا علیحدگی اختیار کرلیں۔ اولاد کو چاہیے کہ افہام و تفہیم کے ساتھ ہر ممکنہ جائز تدبیر اختیار کرکے دونوں میں علیحدگی کرا دیں۔
مقام
خانیوال
تاریخ اور وقت
نومبر 24, 2025 @ 05:47شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
