زمره
فتوی نمبر
سوال
(1)آج کل سرکاری طور پر گھر بنانے کے لیے بینکوں سے رعائتی قرضے دیے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے شرعی رہنمائی درکار ہے کہ کیا یہ قرض سودی لین دین میں آئے گا؟
(2)فاسد نظام کی وجہ سے گھر بنانا آج کل تنخواہ دار طبقہ کی پہنچ سے تقریباً باہر ہو چکا ہے، جب کہ ہر شہری کو رہائش کی سہولت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس پہلو سے اپنے بنیادی حق کے حصول کے لیے، اگر کسی شخص کو اس نظام سے فائدہ ملتا ہے تو لینا چاہیے؟
جواب
(1)قرض ایک عقد تَبَرُّع ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ تعاون باہمی اور انسانی ہمدردی کے پیش ِنظر بغیر کسی منفعت کے، کسی کو کوئی چیز استعمال کے لیے دے دیں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
”كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا“ [1]
(ہر وہ قرض جس سے نفع اٹھایا جائے، وہ سود کی قسموں میں سے ایک قسم ہے۔)
لیکن استحصالی نظاموں نے باہمی تعاون پر مبنی انسانی رشتوں کو بھی سرمایہ پرستی کی بھینٹ چڑھا کر آپس کے تعلقات کی سالمیت کو ریزہ ریزہ کردیا ہے۔ اور باقاعدہ منظم طریقے سے قرضوں پر مبنی انسان دشمن سودی معیشت کو معاشرے میں فروغ دیا ہے۔ اس استحصالی سودی نظام میں بینکس جو طے شدہ اضافے کے ساتھ قرضہ دیتے ہیں، وہ شرعاً سودی قرضہ ہوتا ہے۔ لہٰذا بینک سے قرضہ لینا جائز نہیں ہے۔
(2)نظام کی خرابی کو بنیاد بنا کر کسی ناجائز کام کو جواز نہیں بخشا جا سکتا۔ البتہ اگر حالات ایسے ہیں کہ گھر لینا ناگزیر ہو چکا ہے، تو سود جیسے مہلک گناہ میں پڑنے کے بجائے اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے تگ و دو کریں اور صبر واستقلال (مستقل مزاجی) کے ساتھ رقم جمع کرنے کی کوشش کریں کہ آپ حلال طریقے سے چھت حاصل کر سکیں۔ اگر مسلسل محنت، جائز تدابیر کے باوجود کوئی راستہ نہ نکلے اور حالات واقعی حد سے زیادہ اضطراری ہو جائیں، تو ایسی مجبوری میں اپنی بنیادی ضرورت کی تکمیل کے لیے بینک سے رجوع کرنے کی گنجائش ہے۔
[1] السنن الکبری للبیھقی، 5/ 573 برقم :10933
