عذر کے بغیر روزہ چھوڑنا

زمره
روزہ و اعتکاف
فتوی نمبر
0278
سوال

مفتی صاحب! میری تعیناتی بین الاقوامی ادارے کے ساتھ یوکرین امن مشن میں ہوئی ہے۔ رمضان کے حوالے سے میرا سوال ہے کہ اس ملک میں جنگ کی صورتحال میں کرفیو بھی نافذ ہوتا ہے۔ ہوٹل میں رہائش ہونے کی وجہ سے سحر و افطار اور کھانے کی ترتیب بھی ناممکن ہے۔ میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا ایسی صورتحال میں، میں روزے رکھوں؟ یا واپس اپنے ملک میں جاکر قضا کروں؟

جواب

​کسی عذر کے بغیر روزہ چھوڑ دینا سخت گناہ کا کام ہے، لہٰذا سحر و افطار کے وقت کھانے کا الگ سے انتظام کیا جائے۔ اور اگر اس وقت کھانا دستیاب نہ بھی ہو، تو کم از کم اتنا اہتمام ضرور ہونا چاہیے کہ کسی ہلکی چیز مثلاً پانی، کھجور یا کوئی اور معمولی غذا کے ذریعے سحر و افطار کر لیا جائے، تاکہ روزہ ترک کرنے کی نوبت نہ آئے۔

مقام
کیو، یوکرین
تاریخ اور وقت
مارچ 08, 2023 @ 09:07صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں