والدین کا اولاد کے درمیان ہبہ میں عدم مساوات کا حکم

زمره
اجارہ و ہبہ
فتوی نمبر
0085
سوال

میرے والد صاحبِ حیثیت، ملازمت پیشہ ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم دو بہنیں اور تین بھائی ہیں۔ والد صاحب نے ہم سب بہن بھائیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور اچھے طریقے سے شادی کی ذمہ داری نبھائی۔ میرے والد صاحب کی جائیداد میں میری معلومات کے مطابق مکانات، دوکانات، کمرشل پلاٹ، سکنی و زرعی رقبہ تھا جو انہوں نے میرے بھائیوں کو ہبہ کر دیا جبکہ میری والدہ کو اپنے والد (میرے نانا) کی طرف سے جو ترکہ ملا تھا اس میں سے ایک پلاٹ مجھے دیا اور کہا کہ یہ تمہارا حصہ ہے اور میرے والد نے اپنی جائیداد میں سے میری بہن کو ایک عدد فلیٹ اور دوکان دی ہے۔ والدہ وفات پاچکی ہیں جبکہ والد زندہ حیات ہیں۔ ہم دونوں بہنوں کو والد صاحب نے شرعی حق سے محروم کر دیا ہے۔ جب ہم نے والد صاحب سے مطالبہ کیا تو وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس اب کچھ نہیں ہے، سب کچھ میں نے ہبہ کر دیا ہے۔ ہم بہنوں کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ کیا ہم دونوں بہنیں اپنے بھائیوں سے تقاضا کر سکتی ہیں؟ جبکہ بھائیوں کا موقف ہے کہ والد صاحب نے اپنی مرضی سے سب کچھ تقسیم کیا ہے، اس لئے ہم بہنوں کا تقاضا نہیں بنتا، رہنمائی درکار ہے۔

جواب

ہر صاحب حیثیت شخص اپنی زندگی میں اپنے مال و دولت کو ہر طرح کے تصرف میں لا سکتا ہے اور ہر طرح کے تصرف میں شرعی حدود و قیود کی پاسداری لازمی ہے۔ والدین کے لیے اولاد (بیٹے، بیٹیوں) کے درمیان مال و دولت کو ہبہ کرنے میں شرعاً برابری مستحسن ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد کے درمیان ہبہ میں برابری کا حکم فرمایا ہے، جیسا کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ: (ایک دن) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا: ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ (مشکوٰۃ: 1319)
​لہذا شریعت کی رو سے والدین کے لیے ہبہ کے سلسلے میں بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر دینے کا حکم ہے، نہ تو کسی کو محروم کرے اور نہ ہی بلاوجہ کمی بیشی کرے۔ ہاں اگر اولاد میں سے کسی کو کسی معقول وجہ (غربت، دین داری یا خدمت گزاری) کی بنا پر دوسروں کی نسبت زیادہ دینا چاہیں تو اس کی اجازت ہے، لیکن بلا وجہ اولاد میں کسی کو محروم کرنا یا دوسروں کی نسبت کم دینا درست نہیں۔
​آپ کے والد چونکہ حیات ہیں تو ان کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو اعتماد میں لے کر اس تقسیم کو درست کردیں اور اولاد کے لیے اپنے والد کے ساتھ خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ اپنے والد کے گناہ کا ازالہ کریں اور اس کی صورت یہ ہے کہ تمام بیٹے اور بیٹیاں ہبہ شدہ جائیداد اس طرح تقسیم کریں کہ سب کا حصہ برابر ہوجائے اور والد صاحب آخرت میں مواخذہ سے بچ جائیں۔
​نیز آپ کی والدہ کا جو ترکہ ہے وہ بھی شرعی ورثاء میں ان کے حصص کے مطابق تقسیم ہونا ضروری ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب​

مقام
جھنگ
تاریخ اور وقت
اگست 27, 2025 @ 12:46صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں