خوشبو لگانے والی عورت کے بارے میں دو احادیث کا مطلب

زمره
حدیث و سنت
فتوی نمبر
0083
سوال

ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ خوشبو لگانے والی عورت زانیہ ہوتی ہے، نیز کہا جاتا ہے کہ اس پر غسل جنابت فرض ہوجاتا ہے کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

​اسلامی شریعت کا ایک قاعدہ ہے کہ جو طریقہ کسی ناجائز بات کے ارتکاب کا ذریعہ بن سکتا ہے، وہ معاملہ کی نوعیت کے اعتبار سے حرام، مکروہ اور ناجائز ہو جاتا ہے اور جو امور جائز اور قابلِ تعریف بات تک پہنچانے کا وسیلہ اور ذریعہ بنتے ہیں، وہ بھی جائز اور پسندیدہ بن جاتے ہیں، اس بات کو یاد رکھنے سے انسان بہت سے امور کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے کہ ان کا بالآخر انجام کیا ہو گا اور ان کی تان کہاں جا کر ٹوٹے گی۔ اس تناظر میں فی نفسہ عورت کے لیے خوشبو لگانے کی ممانعت نہیں ، لیکن اس کے خوشبو استعمال کرنے کے مقاصد سے اس کی نوعیت طے ہوگی۔ اگر عورت قصداً تیز خوشبو استعمال کرتی ہے کہ اس کا مردوں کے پاس سے گزر ہوگا تو وہ ہیجانی کیفیت (فتنہ) میں مبتلا ہوں گے۔ اس صورت میں ایسی خوشبو کے ساتھ گھر سے باہر جانا گناہ کبیرہ ہے۔
حدیث مبارکہ میں غلط ارادہ سے خوشبو لگا کر گھر سے باہر جانے والی ایسی عورت کے بارے میں سخت الفاظ آئے ہیں چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اپنے آپ کو خوشبو لگاتی ہے اور لوگوں کے پاس سے گزرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو محسوس کریں تو وہ بدکار ہے۔ یعنی اس کا عمل بھی ایک درجہ میں حرام کاری کے دائرہ میں آجاتا ہے۔ (سنن نسائى، الحدیث: 5141)

ایک اور حدیث مبارکہ میں خوشبو لگانے والی عورت کے لیے غسل جنابت کے الفاظ آئے ہیں۔(سنن ابو داؤد، الحدیث: 4174)

​یعنی اس صورت میں عورت کو اپنے کپڑوں یا اپنے بدن کو اس طرح خوب دھونا یا صاف کرنا کہ خوشبو زائل ہوجائے ضروری ہے۔ ان احادیث کا یہ مفہوم کسی مستند صاحب علم کے ہاں یہ نہیں ہے کہ ایسی صورت میں کوئی حدِ زنا لاگو ہوگی یا غسل جنابت فرض ہوجاتا ہے بلکہ مقصد معاملہ کی سنگینی کی طرف متوجہ کرکے نیت پاکیزہ رکھنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرکے بوقت ضرورت گھر سے باہر جانے کے ضابطہ کی طرف رہنمائی کرنا ہے۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مقام
Lahore
تاریخ اور وقت
اگست 26, 2025 @ 06:01شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں