بلوغت کے بعد نکاح کی ناگزیریت

زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0005
سوال

السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
 میرا سوال یہ ہے کہ "کیا بالغ ہونے کے بعد شادی کرنا لازمی ہے؟ 
میں سمجھتا ہوں کہ مجھے شادی سے پہلے اپنے بچوں کی بہتر نشوونما کے لیے اسلام اور نفسیات کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن میرے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ حدیث میں کہا گیا ہے کہ بالغ ہونے کے فوراً بعد شادی کی جائے۔"
 براہ کرم میری الجھن کو واضح کریں کیونکہ میں اس مرحلے پر اپنے آپ کو ایک اچھا باپ بننے کے لیے نااہل سمجھتا ہوں۔

جواب

حالتِ اعتدال میں نکاح سنتِ مؤکدہ ہے۔
واضح رہے کہ حالتیں تین ہیں: اِفراط ، تفریط ، اعتدال
اِفراط: نکاح کے تمام حقوق پر قادر ہو اور اگر نکاح نہیں کرئے گا تو برائی میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو۔ اس صورت میں نکاح فرض ہے۔
تفریط: نکاح کے حقوق کی ادائیگی پر قادر نہ ہو بلکہ نکاح ہونے کی صورت میں مزید ظلم و زیادتی کا خطرہ ہو، اس صورت میں نکاح حرام ہے۔ 
اِعتدال: انسان کو مہر ، نان و نفقہ اور حقوقِ زوجیت پر قدرت حاصل ہو، اور زنا، ظلم و زیادتی اور ترکِ فرائض کا اندیشہ نہ ہو تو اعتدال کی صورت ہے۔ اگر مذکورہ امور میں سے کسی ایک پر قدرت نہ ہو یا کسی ایک کا خوف و اندیشہ ہو تو حدِ اعتدال سے تجاوز ہوگا کما فی البحر الرائق۔
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں آپ خود فیصلہ کیجئے کہ آپ کس درجے میں ہیں۔ اگر کفو (ہمسر) رشتہ میسر نہ ہو یا بیوی کا نفقہ ادا کرنے کی استطاعت نہ ہو تو نکاح میں تاخیر کی جاسکتی ہے۔ اس صورت میں اگر  گناہ میں واقع ہونے کا اندیشہ ہو تو حدیث شریف کی روشنی میں اس کاعلاج کثرت سے روزے رکھنا ہے۔
باقی رہی یہ بات کہ آپ اچھا باپ بننے کی اہلیت نہیں رکھتے تو یہ آپ کا وہم ہے جب ذمہ داری پڑے گی تو اہلیت بھی پیدا ہو جائے گی۔

مقام
Lahore
تاریخ اور وقت
نومبر 13, 2023 @ 08:49شام