ایک حقیقی بہن، ایک علاتی بہن اور چار علاتی بھائیوں کے درمیان ترکہ کی تقسیم

زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0089
سوال

​ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک خاتون غیر شادی شدہ فوت ہوئی، جب کہ ان کے والدین کا انتقال ان کی وفات سے کافی عرصہ پہلے ہوگیا تھا، خاتون کے ورثا میں ایک حقیقی بہن، ایک علاتی بہن اور چار علاتی بھائی ہیں، جب کہ خاتون کے حقیقی بھائیوں کی اولاد میں چار حقیقی بھتیجے اور تین حقیقی بھتیجیاں ہیں، متوفیہ کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

جواب

مرحومہ کی کل جائیداد میں سے حقوق متقدمہ (تجہیز و تکفین کا خرچہ، مرحومہ پر کوئی  قرض ہو تو اس کی ادائیگی اور  اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہے تو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی میں اسے نافذ کرنے کے بعد) باقی منقولہ و غیر منقولہ ترکہ کل اٹھارہ حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں نو حصے حقیقی بہن، دو دو حصے ہر ایک علاتی بھائی اور ایک حصہ علاتی بہن کو ملے گا۔ موجودہ شکل میں حقیقی بھتیجے اور بھتیجیاں، علاتی بھائیوں کی موجودگی کی وجہ سے متوفیہ کی وراثت سے محروم رہیں گے، چنانچہ حضرت مولانا سید اصغر حسین محدث اپنی معروف کتاب ’’مفید الوارثین‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ: ’’جب علاتی بھائی موجود ہوں تو حقیقی بھتیجا محروم رہتا ہے، کیوں کہ بھائی قریب ہے، اگر چہ علاتی ہے اور بھتیجے کا درجہ بعید ہے۔‘‘
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مقام
سرگودھا
تاریخ اور وقت
اگست 28, 2025 @ 04:09شام
ٹیگز