بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں نوجوانوں اور اہل دانش کا شعوری کردار اور قومی ذمہ داریاں


حضرت مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری نے مورخہ 10 مئی بروز اتوار بمقام ریجنسی ہوٹل میرپور آزاد کشمیر میں ایک دعوتی سیمینار بعنوان" بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں نوجوانوں اور اہل دانش کا شعوری کردار اور قومی ذمہ داریاں"سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کیا ۔

سیمینار میں میرپور شہر سے سیاسی وسماجی شخصیات سمیت وکلاء، ڈاکٹرز، پروفیسرز، اساتذہ ،طلباءاور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔سیمینار کی صدارت جناب رضوان غنی جب کہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض جناب ساجد سلہریا نے سر انجام دیے۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک اور ترجمہ سے کیا گیا جس کی سعادت مفتی اقبال نے حاصل کی جب کہ نعت روسول مقبول ﷺ عمیر اصغر نے پڑھی۔

حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسن (صدر انتظامیہ ادارہ رحیمیہ)  نےادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ٹرسٹ کا جامع تعارف پیش کرتے ہوئے ادارے کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔انہوں نے فرمایاکہخانقاہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے چوتھے مسند نشین حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری قدس سرہٗ السعید کی سرپرستی اور رہنمائی میں تاریخی شہر لاہور میں 2001 ء میں’’ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ (ٹرسٹ) پاکستان‘‘ کے نام سے ادارہ کا قیام عمل میں آیا جس کے مقاصددرج ذیل ہیں۔

1: علومِ قرآنیہ کی بنیادی و حقیقی تعلیمات نوجوان نسل کے سامنے پیش کرنا

2: انسانی سماج کی تشکیل کے بنیادی علوم اور ان کے قرآنی اصول سے واقفیت بہم پہنچانا

3: علومِ قرآنیہ کی اساس پر روحانی، اَخلاقی اور شعوری تربیت کا اہتمام کرنا

ادارہ اپنی مطبوعات اور مقالہ جات کے ذریعے دور حاضر کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل کے حل کے لئےقرآنی علوم اور تاریخ اسلام کو تحقیقی انداز میں نسلِ نو کے سامنے پیش کرتا ہے تاکہ پاکستانی نوجوان قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ایک بہتر معاشرے کے اصولوں کا تعارف حاصل کر سکیں

مزید یہ کہادارہِ رحیمیہ علومِ قرآنیہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے اپنے مراکز کے ذریعے نوجوانوں میں اجتماعیت اور فکری وحدت کے حصول کے لئے کوشاں ہے تاکہ نوجوانوں کو ملک کی تعمیر و ترقی میں درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ذہین، ذمہ دار اور سماجی حوالے سے باشعور قیادت کی تربیت مہیا کی جاسکے

ادارہِ رحیمیہ کی نظر میں زیر تعلیم اور تعلیم یافتہ نوجوان ملک کا بیش قیمت سرمایہ ہیں، ان کو اعتماد، حوصلہ افزائی، درست خطوط میں راہنمائی اور تربیت مہیا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ معاشرے کی ذمہ داریوں کو ادا کرسکیں۔

ان مقاصد کے حصول کے لئے تربیتی و تعلیمی کلاسز، مختلف سیمینارز، ڈسکشن فورمز، خطباتِ جمعہ، دروس قرآن وحدیث اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے. ادارہ اپنی مطبوعات اور مقالہ جات کے ذریعے دور حاضر کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل کے حل کے لئے قرآنی علوم اور تاریخ اسلام کو تحقیقی انداز میں نسلِ نو کے سامنے پیش کرتا ہے۔ تاکہ پاکستانی نوجوان قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ایک بہتر معاشرے کے اصولوں کا تعارف حاصل کر سکیں۔

ادارہ رحیمیہ تحقیق اور تدریس کے عمل کو جدید خطوط پر آگے بڑھا رہا ہے، اس ضمن میں لاہور کے مرکزی کیمپس میں تمام سہولیات سے مزین لائبریری، سیمینار ہال اور کانفرنس روم قائم کئے گئے ہیں جب کہ دیگر مراکز میں بھی دستیاب وسائل کے مطابق تعلیمی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ ادارہ کے زیرِ اہتمام تحقیقی مقالہ جات پر مشتمل سہ ماہی مجلہ 'شعور و آگہی' اور قرآن و حدیث کی روشنی میں حالاتِ حاضرہ، سیاست، معیشت اور معاشرتی موضوعات پر مبنی رسالہ 'ماہنامہ رحیمیہ' شائع کیا جاتا ہے۔ نیز، ادارہِ رحیمیہ کا شعبہَ نشرواشاعت تسلسل کے ساتھ اہم دینی اور تاریخی موضوعات پر کتب کو علمی حلقوں میں متعارف کروا رہا ہے۔

اس کے بعدحضرت مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہ العالی نے بطور مہمان خصوصی خطاب فرمایا؛

ہم آج یہاں ایک نہایت اہم موضوع پر گفتگو کے لیے جمع ہوئے ہیں کہ اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں بحیثیتِ مسلمان اور بحیثیتِ پاکستانی ہماری قومی اور ملی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ یہ ہمارے دور کا ایک اہم ترین سوال ہے، جس پر ہر باشعور انسان، خصوصاً اہلِ علم، کو سنجیدگی سے غور و فکر کرنا چاہیے۔

ہم جس دینِ اسلام پر ایمان رکھتے ہیں، قرآنِ حکیم کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہیں اور حضور نبی اکرم ﷺ کو خاتم النبین مانتے ہیں، تو پھر ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ قیامت تک کے لیے آنے والا یہ دین آج کے عالمی حالات میں انسانیت کی رہنمائی کیسے کرتا ہے؟

آج دنیا میں مختلف نظام رائج ہیں۔ ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام ہے، جس نے سود، استحصال اور معاشی ظلم کے ذریعے انسانیت کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہوا ہے۔ دوسری طرف سوشلزم اور کمیونزم جیسے نظام ہیں، جنہوں نے انسانی معاشروں کو اپنے مخصوص نظریات کے تحت چلانے کی کوشش کی۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان صرف انہی نظاموں کے تابع رہیں، یا اسلام بھی اپنا مکمل سیاسی، معاشی، سماجی اور تعلیمی نظام رکھتا ہے؟

یہ دور نظریات اور نظاموں کی کشمکش کا دور ہے۔ ایسے میں ایک مسلمان کے سامنے دو راستے ہیں؛:
یا تو وہ یہ تسلیم کر لے کہ مذہب اب انسانی مسائل کے حل کے قابل نہیں رہا، یا پھر وہ پوری دنیا کے سامنے یہ واضح کرے کہ دینِ اسلام آج بھی ایک مکمل نظام حیات ہے، جو انسانیت کو عادلانہ، متوازن اور پُرامن نظام دے سکتا ہے۔

یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مذہب فرسودہ ہو چکا ہے، کیونکہ نبی اکرم ﷺ کی نبوت قیامت تک کے لیے ہے اور قرآنِ حکیم آخری انسان تک کے لیے ہدایت ہے۔ اس لیے اس دین کو سمجھنا، اس کے نظام کو جاننا اور اسے دنیا کے سامنے پیش کرنا ہر مسلمان کی علمی اور دینی ذمہ داری ہے۔

دنیا کی ہر قوم اپنے نظریے کے مطابق تعلیمی، سیاسی اور معاشی نظام تشکیل دیتی ہے،امریکہ نے سرمایہ داری کی بنیاد پر اپنی ریاست قائم کی، روس نے اشتراکیت کی بنیاد پر اپنا نظام بنایا، اور چین نے اپنے مخصوص نظریات کے مطابق تعلیمی و سیاسی ڈھانچہ تشکیل دیا۔

سوال یہ ہے کہ ہم مسلمان، جو قرآنِ حکیم اور سیرتِ نبوی ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں، کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے غور کیا کہ ہمارا اپنا نظام کیا ہے؟ ہمارا سیاسی، معاشی، سماجی اور تعلیمی ماڈل کیا ہونا چاہیے؟

بدقسمتی سے برصغیر میں دو سو سالہ غلامی نے ہماری فکری بنیادوں کو کمزور کر دیا، انگریزوں نے صرف ہماری زمینوں پر قبضہ نہیں کیا بلکہ ہمارے تعلیمی، عدالتی اور معاشی نظام کو بھی بدل دیا، لارڈ میکالے کے تعلیمی نظام نے ایسی نسل تیار کی جو رنگ و نسل کے اعتبار سے ہندوستانی تھی مگر فکر و سوچ کے اعتبار سے مغرب کی پیروکار بن گئی۔

حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ دورِ حکومت میں برصغیر دنیا کی خوشحال ترین معیشتوں میں شمار ہوتا تھا، اقوامِ متحدہ کی تحقیقی رپورٹس کے مطابق کئی صدیوں تک اس خطے کے پاس دنیا کی مجموعی دولت کا بڑا حصہ موجود تھا، یہ سب ایک مضبوط سیاسی، معاشی اور تعلیمی نظام کے نتیجے میں ممکن ہوا تھا۔

پھر 1947ء میں پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا،یہ دنیا کی واحد ریاست ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوئی،اس لیے ہماری ذمہ داری دوسروں سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں ایسا نظام قائم کریں جو عدل، انصاف، علم اور انسانی فلاح کا ضامن ہو۔

لیکن افسوس کہ ہم نے دین کو صرف چند رسومات تک محدود کر دیا،آج مدارس میں دینی علوم تو پڑھائے جاتے ہیں مگر جدید سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجز کے تناظر میں اسلام کے نظام پر جامع گفتگو کم ہوتی ہے، دوسری طرف جدید تعلیمی اداروں میں سائنس، انجینئرنگ اور میڈیکل تو پڑھائی جاتی ہے مگر اسلام کی فکری اور علمی بنیادوں سے نئی نسل کو جوڑا نہیں جاتا۔

قرآنِ حکیم محض تلاوت یا تعویذ کے لیے نہیں آیا، بلکہ یہ انسانی معاشرے کی رہنمائی کے لیے نازل ہوا ہے، قرآن خلافت، عدل، معیشت، سیاست، اخلاقیات اور اجتماعی زندگی کے اصول بیان کرتا ہے،حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت داؤدؑ، حضرت سلیمانؑ اور پھر نبی اکرم ﷺ تک، تمام انبیاء علیہم السلام نے انسانیت کو ایک عادلانہ نظام دیا۔

رسول اللہ ﷺ نے صرف عبادات کی تعلیم نہیں دی بلکہ 23 سال کے مختصر عرصے میں ایک مکمل ریاست قائم کر کے دکھائی،آپ ﷺ نے ظلم، جہالت اور استحصال پر مبنی معاشرے کو عدل، اخوت اور انسانی احترام کے نظام میں تبدیل کر دیا،یہی وہ انقلاب تھا جس نے دنیا کی تاریخ بدل دی۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآنِ حکیم کو علمی، فکری اور عملی انداز میں سمجھیں، ہمیں جدید دور کے چیلنجز کے مقابلے میں اسلام کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ اگر دنیا سرمایہ داری اور سوشلزم کی کتابوں کی بنیاد پر نظام بنا سکتی ہے، تو مسلمان قرآنِ حکیم کی روشنی میں انسانیت کو بہتر راستہ کیوں نہیں دکھا سکتے؟

ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ شعور دینا ہوگا کہ اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب، مکمل فکر اور مکمل نظامِ حیات ہے،یہی پاکستان کے قیام کا مقصد تھا، اور یہی ہماری قومی و ملی ذمہ داری ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کو صحیح معنوں میں سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی روشنی میں ایک عادلانہ معاشرہ قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

حضرت مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری نے کامیاب سیمینار کے انعقاد پر انتظامیہ، استقبالیہ کا شکریہ ادا کیا اورسیمینار کے اختتام پر حضرت اقدس نے دعا کی اور تمام مہمانوں کے لئے ریفریشمنٹ کا انتظام کیا گیا اور سیمینار اختتام پذیر ہوا۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


رپورٹ: اسد محمود (میرپور آزاد کشمیر)