تفصیل
15 مئی 2026ء بروز جمعۃ المبارک تحصیل کینٹ راولپنڈی کے زیرِ اہتمام کوکنکورڈیا کالج، ہارلے سٹریٹ میں ایک دعوتی سیمینار منعقد کیا گیاجس کے مہمانِ خصوصی صدر انتظامیہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہٹرسٹ،حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسن صاحب تھے۔
پروگرام کے آغاز میں تلاوتِ قرآنِ پاک کا شرف مولانا عبداللہ ولی کو حاصل ہوا، نظامت کے فرائض جناب توصیف محمود نے انجام دیے، جب کہ ادارے کے تعارف پر بریفنگ جناب اویس میر نے پیش کی۔
مہمان خصوصی نے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے اور نوجوانوں کے کردار کے حوالے سے نہایت مدلل گفتگو فرمائی،آپ نے فرمایا کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد مسلمانوں کے عروج کا دور شروع ہوا جو کہ پچھلے ایک ہزار سال تک قائم رہا ،لیکن خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد پہلی جنگ عظیم اور دوسرے جنگ عظیم کے نتیجے میں دنیا کے حالات یکسر تبدیل ہو گئے، چار بڑے ممالک ویٹو پاوروالے اقتدار میں آگئے اور دنیا کے چھوٹے ممالک کو اپنا تجارتی اور معاشی غلام بنا لیا، جبکہ اس کے برعکس ہندوستان تقسیم سے پہلے سونے کی چڑیا کہلاتا تھا، دنیا کے کل حصے کا 25 %جی ڈی پی ہندوستان سے حاصل ہوتا تھا،لیکن انگریز سامراج کی ڈیوائڈ اینڈ رول کی پالیسی کے تحت اس کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹ دیا گیا،تاہم تاریخ عالم شاہد ہے کہ جو اقوام خود کو منظم کرتی ہیں انہوں نے دوبارہ دنیا کے خطے پہ اپنے آپ کو منوایا ہے جیسے روس اور چین، بد قسمتی سے ہمارے ہاں اس طرح کی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی اور ہم غلامانہ ذہنیت کو قبول کرنیکی مرہون منت مزید زوال کا شکار ہو گئے۔
میرے دوستو ! آپ سب کے سامنے یہ چیزیں رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنی تاریخ معلوم ہو اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات ہمارے سامنے ہو ں،جس سے سبق حاصل کرکے ہم اپنا رخ متعین کریں، جن عوامل کو اختیار کرکے دنیا کی دیگر اقوام نے ترقی کی ہے، آج ہمیں بھی انھیں اختیار کرنے کی ضرورت ہے ،یہ سرمایہ دارانہ نظام دنیا کے 90 فیصد وسائل پر تسلط حاصل کیے ہوئے ہیں،حالانکہ اللہ تعالی نے یہ وسائل سب کے لیے یکساں میسر کیے ہیں، امام شاہ ولی اللہ رح فرماتے ہیں کہ انسانیت کے بنیادی حقوق ہیں جس میں تعلیم، رہائش، سکیورٹی بنیادی ضروریات ہیں جو کہ اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے یہ آج کے دور میں قرضوں کی معیشت کے ذریعے سے اقوام کو غلام بنایا جا رہا ہے۔
میرے دوستو،آج ہمیں اس شعور کو سیکھنے اور اجتماعی نقطہ نظر سے تاریخ کو پڑھنے کی کوشش کرنی ہے ،ادارہ رحیمیہ آپ کو دعوت فکر وعمل دیتا ہے تاکہ ہم قومی اور بین الاقوامی طور پر اپنا ایک کردار متعین کر سکیں اور اپنے شاندار ماضی کو بنیاد بناکر ایک شاندار مستقبل کا آغاز کر سکیں۔
پروگرام میں طلباء اوراساتذہ سمیت دیگر شعبہ جات زندگی سے تعلق رکھنے والے احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
رپورٹ: اسامہ تنویر
