ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور کے زیراہتمام مورخہ 15 مئی 2026ء بروز جمعۃ المبارک B-17اسلام آباد میں ایک سیمینار بعنوان "بدلتا ہوا عالمی منظر نامہ اور پاکستانی نوجوانوں کا قومی کردار"منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور کے ناظم تعلیمات و تربیت پروفیسر ڈاکٹر قاری تاج افسرصاحب تھے۔
انجینئر خالد ریاض بخاری صاحب نے بطور مہمان اعزازی پروگرام کو رونق بخشی، سیمینار کی صدارت تحصیل منتظم جناب محمد اسماعیل نے فرمائی ،نظامت کے فرائض جناب نوید الحسن صاحب نے سرانجام دیے جب کہ تلاوتِ کلام پاک کی سعادت حافظ سعد حبیب صاحب نے حاصل کی۔ جناب عامر حبیب صاحب نے ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ٹرسٹ اور سیمینار کے موضوع کا تعارف پیش کیا.
بعد ازاں مہمان خصوصی نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح آج عالمی منظرنامہ تبدیل ہو رہا ہے، اس طرح کی تبدیلیاں انسانی تاریخ میں پہلے بھی آئیں، ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے. مہمان خصوصی نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے وقت دنیا میں متعدد تبدیلیاں رونما ہوئیں، مثلاً ابرہہ کی شکست کا واقعہ. اسی طرح بعد میں ابو جہل کے نظام کی شکست اور پھر قیصر و کسریٰ کے نظاموں کا خاتمہ.
ڈاکٹر تاج افسر صاحب نے اسلام کے ہزار سالہ نظام کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام کے عالم گیر فکر کی بنیاد پر قائم ہونے والے نظام نے کل انسانیت کو ایک عرصے تک عدل، امن اور معاشی خوش حالی فراہم کی، مسلمان جہاں گئے، وہاں کی اقوام کو اپنے شانہ بشانہ ترقی سے ہم کنار کیا، اس کے برعکس جب اسلامی نظام کا زوال آیا اور انگریز کا عالمی تسلط شروع ہوا تو اس سامراجی نظام نے انسانیت کو تقسیم کیا، جنگ و جدل مسلط کیا اور دنیا بھر کے وسائل لوٹ کر یورپ منتقل کیے.
برعظیم پاک و ہند کی تقسیم کے وقت جب امریکی سامراج نے برطانوی سامراج کی جگہ لی تو وطن عزیز پاکستان کو ایک نئی غلامی میں جکڑ دیا گیا،پاکستان کی اعلیٰ قیادت قتل ہوئی، عالمی مالیاتی اداروں کی دخل اندازی سے ملک میں ظالم اور آلہ کار اشرافیہ کو نظام تھما دیا گیا،زراعت و صنعت کو تباہ کیا گیااور ملک کی معیشت کو قرضوں میں ڈبو دیا گیا.
ان حالات میں یہاں کا نوجوان اپنے وطن سے مایوس ہو کر ملک چھوڑگیا اور اس کی حیثیت عالمی منڈی میں یورپ و امریکہ کے مزدور سے زیادہ نہ رہی.
آخر میں نوجوانوں کو ہمت اور حوصلہ دلاتے ہوئے مہمان خصوصی نے ولی اللہی تحریک کا تعارف کرایا، زوال کے دور میں اس جماعت نےجس طرح اسلام کے عظیم الشان فکر کو ہر نسل میں منتقل کیا اور مزاحمتی فکر پر ہر دور میں ایک اجتماعیت قائم کی، اس کا تعارف پیش کیا،
آج ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کی قائم کردہ اجتماعیت اور ولی اللہی فکر کی شکل میں اسلام کی کئی ہزار سالہ تاریخ، تہذیب اور نظام فکر کا موازنہ آج کے بڑے بڑے نظاموں یعنی سوشلزم اور کیپٹلزم سے کیا، آپ نے فرمایا کہ آج یہ دونوں بڑے نظام انسانیت کے مسائل حل کرنے سے قاصر نظر آ رہے ہیں، بدلتا ہوا عالمی منظر نامہ آج یہ واضح کر رہا ہے کہ جس طرح ایران نےاپنی 5000 سالہ تہذیب اور فکر کی بنیاد پر ترقی کی اور اپنا دفاع کیا، اسی طرح اب عالمی طاقتوں کے زوال کے بعد وہی قوم طاقت بن کر ابھرے گی جو اپنی تہذیب اور کلچر کو اپنا کر ترقی کرے گی.
آج ہمارے نوجوان کی بھی یہی ذمہ داری ہے کہ وہ سامراجی نظام، تہذیب اور کلچر کو دیس نکالا دے اور اپنی ہزار سالہ تاریخ، تہذیب اور فکر سے آگاہی پیدا کرے، اس پر ایک اجتماعیت قائم کرے،اسی طرح نہ صرف اپنے ملک و قوم بلکہ کل انسانیت کی ترقی ممکن ہے.
سیمینار کا اختتام حضرت تاج افسر صاحب کی دعا سے ہوا۔اس پروگرام میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والےتقریبا 170 افراد نے شرکت کی جن میں انجینیئرز، ڈاکٹرز،پروفیسرز ،سٹوڈنٹس،کاروباری حضرات اور علماء شامل ہیں۔
رپورٹ:نوید الحسن،اسلام آباد ڈویژن
