بدلتا ہوا عالمی منظر نامہ اور پاکستانی نوجوانوں کا قومی کردار

بدلتا ہوا عالمی منظر نامہ اور پاکستانی نوجوانوں کا قومی کردار
تفصیل

ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور کے زیراہتمام رحیمیہ دارالقرآن آئی ٹین اسلام آباد میں ایک سیمینار بعنوان "بدلتا ہوا عالمی منظر نامہ اور پاکستانی نوجوانوں کا قومی کردار" مورخہ 13 مئی 2026 کو بعد ازنماز عصر منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ (ٹرسٹ) کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانامفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم عالیہ تھے۔
اس سیمینار کی صدارت ادارہ رحیمیہ اسلام آباد کے ڈویژنل منتظم جناب تیمور خالد نے فرمائی۔ نظامت کے فرائض جناب ارشد چوہدری نے سرانجام دیے جب کہ تلاوتِ کلام پاک کی سعادت قاری دلنواز صاحب نے حاصل کی۔
ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور کے صدر انتظامیہ حضرت مولانا مفتی محمد مختارحسن صاحب نے ادارہ رحیمیہ کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ آج ہم نے غور کرنا ہے کہ ہمارے اجتماعی زوال کے اسباب کیا ہیں اور اس سے نکلنا کیسے ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت عالمی ذلت و غلامی کا نظام مسلط تھا،جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خشکی اور تری پر فساد برپا تھا، اللہ کے نبی اور ان کی جماعت نے قیصر و کسری ٰاور ابو جہل کے نظام کو شکست دی اور کل انسانیت کی بھلائی کا نظام قائم کیا۔
لیکن پھر صدیوں بعد آنیوالے دور میں ہم اپنے نظام سے محروم ہو گئے اور بر صغیر پاک و ہند پرایسٹ انڈیا کمپنی کا قبضہ ہو گیا،اس دور میں ہم نہ صرف اپنے کل دین پر عمل سے محروم ہوئے بلکہ ہمارے وسائل بھی دوسری قوم کے تسلط میں چلے گئے، ذلت و غلامی کی وجہ سے تصورات تبدیل ہو گئے، ہمارا عزم و حوصلہ کمزور پڑ گیا، دین کا محدود تصور پیدا ہوا، عبادات تو اسلامی رہیں لیکن ہمارا سیاسی، معاشی نظام اسلامی نہ رہا۔
اب ہمارے سامنے یہ سوال ہے کہ ہم اس غلامی سے کیسے نکلیں؟ اس کے لئے ہمیں دین اسلام کا سیاسی، معاشی اور سماجی نظام قائم کرنا ہوگا۔

آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والی جماعتوں میں ایک اہم نام خانقاہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کا ہے، اس خانقاہ کے پانچویں مسند نشین حضرت مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم عالیہ کی رہنمائی میں آج یہ جدوجہد ادارہ رحیمیہ کے پلیٹ فارم سے ایک عزم کے ساتھ جاری ہے،ادارہ رحیمیہ ولی اللہی علوم کی اشاعت، ترویج، اس پر نوجوانوں کی تربیت اور ان کی تنظیم کے لئے سرگرم عمل ہے،


بعد ازاں مہمان خصوصی حضرت مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم عالیہ نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ عالمی منظرنامہ تبدیل ہو رہا ہے،کیپٹلزم کی طاقت ختم ہو رہی ہے اور نئی طاقت ابھی وجود میں نہیں آئی، اب جب کہ دنیا کے دو بڑے نظام یعنی کیپٹلزم اور سوشلزم انسانیت کے مسائل حل کرنے سے قاصر نظر آ رہے ہیں اور اپنے داخلی بحرانوں سے نمٹنے میں مصروف ہیں، اسلامی تعلیمات کو ماننے والی اقوام کے سامنے یہ سوال در پیش ہے کہ ہم مسلمانوں کی کیا ذمہ داری ہے؟


حضرت آزاد رائے پوری مد ظلہ العالی نے مزید فرمایا کہ قرآن نے معاشرے کی ترقی کے چار بنیادی اصول پیش کئے ہیں:
آزادی، امن، عدل اور معاشی خوش حالی۔

مسلمان ملکوں کو اپنے فیصلے خود کرنا سیکھنا ہوگا، قرآن جس معاشرے کی تشکیل کا پیغام دیتا ہے اس کا پہلا ضابطہ آزادی ہے۔
ایران نے مشرق اور مغرب کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر ترقی کی، برطانوی تسلط کے دور میں ایران براہ راست غلام نہیں بنا، جب کہ ہندوستان اور عرب ملکوں میں باقاعدہ غلامی کے سسٹم مسلط کئے گئے، آج ہمیں اپنی تاریخ کو انگریز کے تسلط سے پہلے کے دور سے پڑھنا ہوگا۔
آج انسانیت کی بقاء اور اجتماعیت کے قیام کے لئے ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا، نفرتوں کو چھوڑنا ہوگا۔


آخر میں نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ آج قرآن کا مطالعہ رسمی انداز میں کرنے کی بجائے انقلابی کتاب کے طور پر کرنے کی ضرورت ہے، نوجوان اپنی عظمت رفتہ کے اصول اور زوال کی وجوہات کو سمجھ کر غلامی کی زنجیریں توڑے اور امریکہ روس یا چین کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنی شناخت پیدا کرے۔


سیمینار کا اختتام حضرت اقدس مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم عالیہ کی دعا سے ہوا۔اس پروگرام میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے تقریبا 500 افراد نے شرکت کی تھی جن میں انجینیئرز، ڈاکٹرز، پروفیسرز ،سٹوڈنٹس، کاروباری حضرات اور علماء شامل ہیں۔


رپورٹ: نوید الحسن ملک، اسلام آباد


مقام
رحیمیہ دار القرآن آئی ٹین اسلام آباد
تاریخ اور وقت
مئی 13, 2026 @ 10:00صبح