قرآن فہمی کے اصول اور عصری تقاضے

تفصیل

ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کے زیر اہتمام 13 مئی 2026ء بروز بدھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج سیٹیلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں ایک دعوتی سیمینار منعقد کیا گیا جسکا عنوان"قرآن فہمی کے اصول اور عصری تقاضے"تھا۔

میزبانی کے فرائض ادارہ ہذا ٰ کی جانب سےپروفیسر محمد طاہر  نے سرانجام دیے جب کہ پروگرام کے مہمان خصوصی ناظم تعلیم و تربیت ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ، پروفیسر ڈاکٹر تاج افسر تھے، نشست کا آغاز تلاوت کلام الہیٰ سے کیا گیاجس کے بعد ادارے کے پروفیسر محمد طاہر شاہ کو ڈاکٹر پروفیسر تاج افسر صاحب کا تعارف کرانے کے لیے ڈائس پر دعوت دی گئی،پروفیسرطاہر صاحب نے مختصر اور جامع تعارف کے بعد پروفیسر ڈاکٹر تاج افسر صاحب کو ڈائس پر آ کر اپنے ملفوظات سے شرکاء کو مستفید کرنے کا موقع فراہم کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر تاج افسر صاحب نے قران حکیم کی چنیدہ آیات کو بطور موضوع سخن بنا کر اپنی تقریب کا آغاز کیا،آپ نے قرآن حکیم کے عظیم جامع فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ قرآن حکیم وہ عظیم کتاب ہے جو اس کائنات میں اللہ تعالی کی طرف سے نعمت عظمٰی کی حیثیت رکھتی ہے ،اللہ تعالی نے جتنے بھی انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام اس دنیا میں بھیجے سب کو اپنی ایک شریعت (کتاب) دے کر بھیجا تاکہ انسانوں کے اجتماعی و انفرادی معاملات کو اللہ تعالی کی منشا کے مطابق حل کیا جائے،

ڈاکٹر صاحب نے قرآن حکیم سے نماز کے متعلق بیان میں فرماتے ہوئے کہا کہ نماز تمام انبیاء پر فرض تھی، نماز کے ذریعے اللہ تعالی نے اپنے انبیاء کو مزید مقام عزت بخشا ، نماز کے اوقات صبح دوپہر عصر اور مغرب اور عشاء کے اوقات کار کو امام شاہ ولی اللہ دہلوی کے فلسفے کے تناظر میں بیان کیا ،مزیدیہ کہ قرآن حکیم کے رموز اوقاف کو بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اللہ تعالی نے اس مادی کائنات کو ایک سسٹم کے ذریعے بنایا ہے ،حیوانات اپنی ڈیوٹی کرتے ہیں انسان اپنی ڈیوٹی کرتے ہیں،کائنات کی تمام مخلوقات ایک جگہ اپنے مدار میں گھومتی ہیں، جس کی مثال دے کر ڈاکٹر صاحب نے سمجھایا کہ وزن اٹھانے والے جانور انبیاء کے دور میں بھی وزن اٹھاتے تھے اور آج کے دور میں بھی وزن ہی اٹھاتے ہیں، جب کہ انسان ایسی مخلوق ہے جس کو اللہ تعالی نے عقل جیسی عظیم نعمت عطا کی ہے اور عقل کا بہترین اور درست استعمال انسان کو ارتقا کی طرف لے کے جاتا ہے، اس کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے آبا و اجداد موبائل گاڑی اور ہوائی جہاز کے سفر سے نا آشنا تھے مگر آج چھوٹے سے چھوٹے بچے کے ہاتھ میں آج کے دور کی جدید ٹیکنالوجی موجود ہے یہ انسانی عقل کے استعمال کی مثال ہے ۔

مہمان خصوصی نے مزید فرمایا کہ انسان جو کچھ سوچتا ہے جو عمل کرتا ہے ،اللہ تعالی کے ہاں ایسا نظام کام کر رہا ہے جو انسان کے قول و فعل حتی کہ اس کی سوچ کو بھی ریکارڈ کر لیتا ہے کل قیامت کے دن یہ سارے معاملات اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، جن کو وہ آج کی ظاہری زندگی میں نہیں دیکھ سکتا ،ڈاکٹر صاحب نے مزید فرمایا کہ قران کے عظیم فلسفے کے تناظر میں ہم بحیثیت قوم پاکستانی ہیں، مسلمان ہیں، ہمارا فرض ہے کہ ہم قران حکیم کی تعلیمات سے اپنی قوم کے نوجوانوں کا شعور بلند کریں، اپنے قومی بھی و ملی مسائل کو اپنے بزرگان دین کی تعلیمات کی روشنی میں حل کریں ،انسان کو اللہ تعالی نے جامع عقل عطا کی ہے ،جس کا استعمال تربیت کے نظام کے بغیر ناممکن ہے، آج دنیا کی جتنی بھی قوموں نے ترقی کی ہے وہ ایک منظم سسٹم کے ذریعے ترقی کر رہی ہیں، ضرورت اب اس امر کی ہے کہ ہم قران حکیم سے اپنی دلی وابستگی اور شعوری بیداری کو جوڑیں ،اس کے لیے ہمیں ان تمام نشستوں کا حصہ بننا چاہیے جو قران حکیم کا شعور انبیاء صحابہ اور اولیاء اللہ کی تعلیمات کے تناظر میں بیان کرتی ہیں، مزید گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ہماری قومی و بین الاقوامی ترقی کا راز قران حکیم کے اندر موجود ہے ،اللہ تعالی نے اس قران حکیم کو اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر پر نازل فرمایا اور وہاں سے صحابہ کرام تابعین تبع تابعین اور اولیاء اللہ اور علمائے ربانیین کے ذریعے شریعت وطریقت کا جو نظام منتقل ہوا، دنیا کے اندر مسلمانوں نے اس کی مثال قائم کی، آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم قران حکیم سے اپنے آپ کو جوڑ لیں تاکہ ہم دنیا میں بھی سرخرو ہوں اور آخرت میں بھی سرخرو ہوں۔

آخر میں پروفیسر ڈاکٹر تاج افسر صاحب نے وطن عزیز پاکستان کی سربلندی اور نوجوانوں کی تعلیمی کامیابی کے لیے دعائیہ کلمات ادا کیے ،اس موقع پر ادارہ ہذا کے پرنسپل بھی موجود تھے،ادارہ ہذا کے پروفیسر حضرات نے ڈاکٹر صاحب اور ان کی ٹیم کو پروقار انداز میںرخصت کیا۔

مقام
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج سیٹیلائٹ ٹاؤن راولپنڈی
تاریخ اور وقت
مئی 13, 2026 @ 10:00صبح