اسلام میں حقیقی آزادی و حریت کا مفہوم اورتقاضے

اسلام میں حقیقی آزادی و حریت کا مفہوم اورتقاضے
تفصیل

سکھر پریس کلب میں مورخہ 12 اگست 2021 بروز جمعرات، رحیمیہ انسٹی ٹیوٹ آف قرآنک سائنسز (ٹرسٹ) سکھر کیمپس کی جانب سے "اسلام میں حقیقی آزادی و حریت کا مفہوم اورتقاضے" کے موضوع پر ایک فکر انگیز سیمینار منعقد کیا گیا۔

سیمینار کے مہمان خصوصی ، سکھر کی معروف سماجی ، روحانی اور علمی شخصیت ڈاکٹر سید لیاقت علی شاہ معصومی تھے۔  سیمینار میں اساتذہ،وکلاء، طلباء، کاروباری طبقے، صحافی حضرات اور رحیمیہ انسٹی ٹیوٹ کے الیومنائیز نے بھرپور شرکت کی۔ 

 ڈاکٹر سید لیاقت علی شاہ نے موضوع پر راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ، " حاصلِ آزادی کو حقیقی اور مکمّل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام پاکستانی بحیثیت قوم مکمل طور پر سیاسی، سماجی، نظریاتی، معاشرتی و معاشی آزادی حاصل کرلیں۔ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم  قومی سوچ اور عادلانہ اجتماعیت کی بنیاد پر اپنے نوجوانوں کی تربیت کریں۔ جن اقوام کا سیاسی اور معاشی نظام اپنا نہ ہو ، انہیں حقیقی آزاد قوم نہیں کہا جاسکتا۔ لمحہ فکریہ ہے کہ 74 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی ہم اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوسکے۔ اور عالمی طاقتوں کے محتاج ہیں۔"
اس موقع پر پروفیسرعاشق علی سوہو نے رحیمیہ انسٹی ٹیوٹ آف قرآنک سائنسز (ٹرسٹ) کے قیام اور اس کے مقاصد کی وضاحت کی۔
سیمینار کی صدارت آغا سلمان پٹھان نے کی۔ نظامت کے فرائض عابد علی سولنگی  نے ادا کئے جب کہ تلاوت قرآن حکیم کی سعادت حافظ محمد آصف عباسی کے حصے میں آئی۔

رپورٹ: عابد علی سولنگی، سکھر

تاریخ اور وقت
اگست 12, 2021 @ 10:00صبح