تعارفی سیشن کتاب "امام شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک"

تعارفی سیشن کتاب "امام شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک"
تفصیل

ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کے زیرِ اہتمام 16 مئی 2026ء کو میونسپل لائبریری مری میں امام انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی شاہکار تصنیف "اِمام شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک" کا تعارفی سیشن منعقد کیا گیا،اس نادر موقع پرلائبریری انتظامیہ کی جانب سے حضرت مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہ العالی کو بطور مہمان مقرر دعوت سخن دی گئی تھی، اس تقریبِ سعید میں صدر انتظامیہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ، حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسن،پروفیسر ڈاکٹر تاج افسر (ناظم تعلیم و تربیت ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ) اور ریجنل منتظم جناب جاوید حمید بھی موجود تھے، حضرت والا نے اپنی پرمغزگفتگومیں فرمایا کہ اللہ رب العزت نے اپنے علوم انسانیت پر کتابوں کے ذریعے سے منتقل کیے ہیں ،یہ علوم انسانی سماج کے تمام پہلووں سے متعلق ہیں، امام شاہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ "علم سیاست، علم طریقت اور علم شریعت، انبیاء کے بنیادی علوم ہیں۔"

آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا لیکن میرے بعد خلفاء آئیں گے اور بڑی کثرت سے آئیں گے، خلافت کے لفظی معنی حکومت کرنے کے ہیں، ایسا نظام حکومت قائم کرنا یا ایسا مقننہ وجود میں آئے جو انسانیت کے لئے قانون سازی کرتی ہو، ایسی انتظامیہ ہو جو تمام انسانیت کے لئے عدل و انصاف فراہم کرے، اور وہ بنیادی دائرہ جس کے تحت اول الذکر دونوں اداروں کا بحق اجتماع باہمی ربط معلوم کیا جاسکے ،وہ عدلیہ ہے۔

سیاست لفظ کا عربی میں معنی یہ ہے کہ قوموں کو پستی سے نکال کر عزت و احترام و ترقی و وقار تک پہنچانا، غلامی کے زمانے میں یہ لفظ بدنام کرکے مکرو فریب اور دھوکہ دہی کے رکھ لیا گیا ہے،اس سیاست اور اس کے معروض کو سمجھنے کے لئے یہ ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ آج سے تین سو سال قبل جب برصغیر میں مسلمانوں کا زوال وقوع پذیرتھا، اورنگ زیب عالمگیر کی سیاست کے بعد جو یہاں کی سیاست میں زوال پیدا ہوا، غلامی کے اس دور میں امام شاہ ولی اللہ پیدا ہوتے ہیں جنہوں نے اس قرآنی سیاست کا شعور پیدا کیا، اور اس پر ایک جماعت نے آزادی و حریت کی تحریک چلائی جو اس خطے کی پہلی ضرورت تھی،قوم کے مسائل تب حل ہوں گے جب قوم کو آزادی حاصل ہو، آزادی کی اس تحریک کی ابتداء ہزارہ دوم میں جس نے کی اس کو شاہ ولی اللہؒ کی تحریک کہتے ہیں۔ یہ تحریک کیا تھی اور اس کا کردار کیا تھا، اس کو سب سے پہلے مولانا عبیداللہ سندھیؒ ؒ نے قلم بند کیا ہے۔

مولانا عبیداللہ سندھیؒ وہ شخصیت ہیں جنھوں نے برعظیم کی آزادی کے لئے 25 سال جلاوطنی گزاری اور 25 سال ہی تقریباً جدوجہد آزادی میں گزارے،مسلمانوں کے زوال کے حقیقی اسباب کیا تھے اور علماء ربانیین نے سیاسی نقطہ نظر سے جو بھی کردار ادا کیا ،ان پر مولانا سندھی نے کتب تحریر کیں۔

انگریزوں سے آزادی کے لئے برصغیر میں موجود تمام اقوام نے کردار ادا کیا، انڈین نیشنل کانگریس دراصل پہلے امریکیوں نے امریکی طرز پر اینگلو انڈین کے لئے ہی بنائی تھی، اور پہلے 15 سال انگریزوں نے ہی اس کانگریس کو چلایا، اس میں تمام لوگ شامل ہوگئے، اور پھر 1905ء میں یہاں کے لوگوں نے کانگریس کے پلیٹ فارم سے انگریزوں سےمکمل آزادی حاصل کرنے کے لئے تحریک شروع کی تو اس کے ردعمل میں وائسرائے ہند نے مسلمانوں اور ہندوؤں میں تقسیم پیدا کرنے کے لئے پہلے تقسیم بنگال کراوائی ، پھر 1912 ءمیں تنسیخ بنگال کی،اور پھر دسمبر 1906ء میں سر آغا خان کی مدد سے مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا،مسلم لیگ جو کہ دراصل سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور وڈیروں کی جماعت تھی، عوامی تعلق نہیں تھا، 1934 میں جناب جناح صاحب لندن سے آئے تو پھر مسلم لیگ کو عوامی بنانے کی کوشش کی گئی، لیکن 1940ء تک یہ جاگیرداروں اور وڈیروں کی جماعت تھی۔

مولانا سندھیؒ نے دیکھا کہ یہ دونوں پارٹیاں خواہ کانگریس ہویا مسلم لیگ، انگریز کی ہی سیاست کے زیر اثرہیں،جن لوگوں نے ہندوستان کی سیاسی تاریخ مرتب کی اور دو سو سالہ سیاسی جدوجہد کرنے والی ولی اللہی جماعت جس میں 1803ءمیں امام شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کی مرتب کردہ جنگی حکمت عملی، 1831 ءمیں شاہ اسماعیل شہیدؒکی جنگ آزادی، 1857ء کی تحریک آزادی میں جن رہنماؤں نے آزادی کے لئے کردار ادا کیا، اسی طرح اس کے بعد تحریک ریشمی رومال، تحریک خلافت، ہندوستان کی حقیقی سیاسی جماعت کی کوئی نمائندگی شامل ہی نہیں کی گئی ہے، جب بھی ذکر ملتا ہے تو تاریخ میں انگریز، کانگریس اورمسلم لیگ کا ذکر ملتا ہے۔

امام شاہ ولی اللہؒ کے بارے میں لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک حدیث پڑھانے والی محدث تھے، سیاست سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا، زیر نظر کتاب میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ شاہ صاحب کی کتب میں آدم علیہ السلام سے لے کر رسول اللہ ﷺ تک اور پھر موجودہ دور تک سیاست کیا تھی، تمام کاذکر ملتا ہے، اس کتاب میں پوری تاریخ رسول اللہ ﷺ کے بعد خلافت بنو امیہ، خلافت بنو عباس اور ہندوستان میں مغل حکمرانوں کی ساری سیاست کو اِمام شاہ ولی اللہؒ نے اپنی کتابوں میں جو سیاسی تبصرے کیے، ہم نے اس کتاب میں جمع کیا ہے،اس کتاب میں پوری ترتیب کے ساتھ  پس منظر بیان کردیاگیا ہے،الحمدللہ اس کتاب میں پورے تسلسل سے وہ حقائق جمع کردیے گئے ہیں جو امام شاہ ولی اللہؒ کی سیاسی تحریک اور اس نظریے پر کام کرنے والی جماعت کو اس دور کی مفاداتی مسلم لیگی و کانگریسی سیاست سے بالاترکرکے پیش کرتے ہیں۔

انبیاء علیہ السلام کی سیاست دراصل انسانوں کے لئے ہوتی ہے، نہ کہ فرقوں اور قوموں کے لئے، انگریز نے یہاںDivide and Ruleکی سیاست کو فروغ دے کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کیے اور ہمیں بے مقصد سیاست کے پیچھے لگا دیا،آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سنجیدہ اور دانش ور طبقہ انبیاء کی سیاست اور قرآنی شعور اور آزادی کے رہنماؤں کی سیاست کا مطالعہ کرے، آزادانہ قومی کردار ادا کریں، یہ اس کتاب کا بنیادی پیغام ہے، اس کا مطالعہ بہت ضروری ہے،

رحیمیہ مطبوعات کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ کتابوں کے ذریعے سے ایک ایسے فکر کو عام کیا جائے کہ جس سے دین اسلام کی سیاست کا صحیح شعور انسانیت کے سامنے اظہر من الشمس کردیا جائے۔

تقریب کا اختتام حضرت اقدس مدظلہ العالی کے دعائیہ کلمات سے کیا گیا اور بعد ازاں حضرت والا کی جانب سے لائبریری انتظامیہ کو مذکورہ کتاب ہدیہ کی گئی۔

رپورٹ: عزیزاللہ تاج

مقام
میونسپل لائبریری مری
تاریخ اور وقت
مئی 16, 2026 @ 10:00صبح