البدور البازغہ | 03 | فلاسفہ مَشائیہ کے چوتھے وہمِ ظلمانی کا محققانہ جائزہ | مفتی عبد الخالق آزاد

Description

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت

درس: 03
(فاتحہ؛فصل 1)
فلاسفہ مَشائیہ کے چوتھے وہمِ ظلمانی کا محققانہ جائزہ

مُدرِّس:
ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة

بتاریخ : 01؍ فروری 2023ء / 09 رجب المرجب 1444ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز
0:18 سابقہ درس کا خلاصہ
1:29 حقائقِ کائنات پر غور و فکر کرنے والوں کے مختلف طبقات اور نتائجِ فکر
3:32 خالق و مخلوق کے تعلق پر غور وفکر کرنے والے حضراتِ انبیاءعلیھم السلام
4:30 انبیاءؑ کے بعد، مُحَدَّثین کا اس غور و فکر میں درجۂ کمال
5:08 مُحَدَّث؛ نبی کی بات کو عقل و برہان اور شعور و فہم کے ساتھ سمجھنے والا
6:30 مُحَدَّثین کے بعد، اس غور وفکر صوفیائے کِرام کا درجہ
7:31 فلسفۂ مَشائیہ و اِشراقیہ کے بانیان؛ ارسطو و افلاطون
8:46 حقائقِ کائنات کے مادی فلسفے سے اختلاف اور اِشراق کی بنیاد
10:15 فلسفۂ مشائیہ کے عرب فقہاء ؛مالکیہ و شوافع پر گہرے اثرات
11:49 ارسطو کی تعلیمات کے زیرِ اثر مسلمان فلاسفہ ؛ بو علی سیناؒ و ابن رشد ؒ
12:38 فلسفۂ اشراق کے زیرِ اثر مسلمان صوفیائے کِرامؒ
13:40 شیخ شہاب الدین مقتولؒ کا افلاطون کے نظریۂ اِشراق کا احیاء
14:50 مشائیہ کے زیرِ اثر صوفیاء کے ایک سلسلے کا المیہ
16:22 مشائیہ کے ناقص اور ادھورے تصورات آج بھی درس نظامی کے نصاب کا حصہ
17:33 مشائیین کا واجب الوجود یا وجود اقصی کی حقیقت کو مجبوراً تسلیم کرنے کا فلسفہ
20:15 وجودِ اقصیٰ کے بارے میں مشائیین کی دو بڑی غلط فہمیاں اور شاہ صاحبؒ کا ردّ
24:53 حقیقتِ واجبہ یا حقیقتِ قُدسیہ سے متعلق فلاسفہ کے تیسرے وہم کا عقلی رد
30:31 صادرِ اول اور حقیقتِ قصویٰ میں عنوان اور مفہوم کی نسبت‘ مثال سے وضاحت
32:35 حکمتِ ربّانیہ کی اصطلاح میں صادرِ اول کے مختلف نام
34:19 صادرِ اول‘ دراصل وجودِ اقصیٰ کی تجلی ہے
36:24 ذاتِ باری تعالیٰ کی تجلیاتِ مطلقہ میں آخری تجلئ بحت‘ کل موجودات کی مبدأِ اول
36:52 ’’موجود الکل‘‘ شاہ صاحبؒ کی ایک اصطلاح
37:30 الرحمٰن؛ عرش سے لے کر فرش تمام مخلوقات کا مبدأِاول نیز اسمِ ذات کا عنوان
40:15 مشائیہ کا چوتھا وہمِ ظُلمانی؛ حقائقِ کائنات ایک وحدت کے تحت مجتمع نہیں ہیں
45:21 کائنات ایک کلمے سے پیدا ہوئی ہے تو موجود الکل میں وحدت کیوں نہیں؟چوتھے وہم ظلمانی کا عقلی رد
46:29 وحدتِ کی حقیقت اور درجات کے تناظر میں شخصِ اکبر کی وحدت کی توضیح
47:38 شخصِ اکبر کے عالم گیر تدبیرِ وُحدانی کے تحت کام کرنے پر دلائل
51:06 فلاسفہ و صوفیاء کے علومِ باطنہ میں عالمگیر تدبیر ِ وحدانی کا اعتراف موجود ہے
52:30 فلاسفہ مشائیہ کے ہاں تدبیر وحدانی کے اعتراف کا ذکر
56:16 فلک الافلاک کے اوپر شخصِ اکبر میں تدبیرِ وحدانی کیوں کام نہیں کر رہی؟ فلاسفہ کا رد
57:32 تدبیرِ وُحدانی اصحابِ شرائع کے ہاں تسلیم شدہ
58:34 تدبیرِ وحدانی کا کنٹرول رحمان ذات کے قبضے میں ہے
59:53 دنیا میں صفتِ رحمٰن اور آخرت میں صفتِ رحیم کا اظہار
1:01:58 صفتِ رحمان کے اوصاف کی عمومیت
1:04:49 اسمِ رحمان کی حقیقت؛ کائنات کی ہر شے سے براہ راست تعلق
1:07:07 ’’الرحمٰن‘‘ ہر انسان کے تقرّر اور زندگی کے تمام مراحل کا واحد ذریعہ
1:11:35 الرحمٰن اسمِ بحت میں کوئی تکثر نہیں! فلسفیوں کے وہمی سوال کا جواب
1:13:26 کسی نوع یا شخص کے مُخَصَّصَات کے تقاضوں کی تکمیل کے بعد اِعطاءِ وجود
1:16:32 مُخَصَّصَات کہاں سے آتے ہیں؟ اس عقلی سوال کے جواب میں شخصِ اکبر میں تین طرح کی قوّتیں اور ان کے حاملات کی تفصیلات
1:17:37 شخصِ اکبر میں پہلی قوت طبیعت الکل ہے
1:19:58 دوسری قوت؛ قُوَائے اِدراکیہ
1:21:11 تیسری قوت؛ اِلٰہی قوتیں
1:22:23 ان قوتوں کے جِبِلی و فطری ملاپ کے شخصِ اکبر پر اثرات ونتائج
1:26:13 صوفیاء و فلاسفہ کے ہاں حقیقتِ مجرّدہ کی مختلف تعبیرات
1:27:01 شاہ صاحب ؒ کی اصطلاح میں حقیقتِ مجردہ کو’’اعیانِ ثابتہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
1:27:55 ہر نوع کا امام ’’عین‘‘ کہلاتا ہے نیز ہر نوع کے مُخصّصات کا تعیّن
1:29:43 صوفیاء ’’باطن الوجود“ کو حقیقتِ مجردہ سمجھ کر، رک گئے
1:30:37 صوفیاء نے وجودِ اقصیٰ تک جانے کا آسان راستہ اختیار نہیں کیا
1:31:32 شاہ صاحبؒ کو وجودِ اقصیٰ تک جانے والی شاہراہ پر چلنے کی توفیق ہوئی
1:32:06 سلوک الی اللہ کے راستے ؛ نیز کاملین کا درجہ' سب سے اعلیٰ
1:33:21 صوفیاء کی حالت ؛ اسمائے الٰہیہ کے باطن میں فنا اور ظاہر سے بے خبر
1:34:16 مشائیہ کے فتنے کے دور میں اشراقی فلاسفہ کے حقیقی علوم کا خاتمہ
1:35:48 فاتحہ کی مباحث‘ مشائیین اور اشراقیین کے تفصیلی نقطۂ نظر کی متحمل نہیں!
1:37:17 موجودات میں علت و معلول کا نظام
1:38:34 علت و معلول کے نظام کی علتِ اولیٰ ؛ ذاتِ باری تعالیٰ تک رسائی
1:40:57 ہر وقوع پذیر ہونے والے حادثے کو صورت' عطاء کرنے والی ’’اَلرَّحمٰن‘‘ ذات
1:42:23 ذاتِ باری تعالیٰ کا ہر صورت پر احاطہ اور مظہر کمال
1:42:56 ہر صورتِ خاصہ کے معرضِ وجود سے پہلے مطلوبہ استعداد کی ضرورت
1:44:39 روز مرہ کے حوادث میں رحمٰن ذات کی قضاء کا لزوم
1:45:26 اہلِ برہان اور اصحاب الشرائع کے حالات کا جائزہ اور شاہ صاحبؒ کی علمی نصیحت

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا

Playlists
Al Budoor Al Bazigha
Created At
Dec 02, 2025