حجۃ اللہ البالغہ | 190 | حلال و حرام جانور نیز شکار اور ذبح کے اصول| مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 190قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ معیشت: باب 02 (حصہ دوم)احادیث کی روشنی میں حلال و حرام جانوروں کی تفصیلات نیز شکار اور ذبح سے متعلق چند اصولمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 07 ؍ ستمبر 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ ۱) جانوروں کے فی ذاتہ حلال و حرام ہونے سے متعلق روایات کی تشریح ۔۔ گھی میں مردہ چوہا پایا گیا: بنیادی حکم اور شاہ صاحبؒ کی تشریح۔۔ گندگی کھانے والے جانور کا گوشت اور دودھ استعمال کرنا ناجائز۔۔ دو قسم کے مردار (مچھلی اور ٹڈی) اور دو خون (جگر اور تلی) حلال۔۔ بجو (گرگٹ) کو قتل کرنے کا حکم : شاہ صاحبؒ کی تشریح۔۔ بجو کو قتل کرنے کی ترغیب: دو حکمتیں۔۔ ۲) حلال جانور جوکسی عارض سےحرام ہوا ہو: قرآنی آیت کی تفصیلات۔۔ ایسے جانوروں سے متعلق احکامات کی احادیث سے وضاحت۔۔ جانوروں کا شکار عرب کی عادت و پیشہ اور اس کی شرائط و احکامات۔۔ شکار اور ذبح سے متعلق چند اصول: دس روایات اور ان کی تشریحپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute