حُجّةُ اللّٰه البالِغة :18 / غیر متبدل جبلت و فطرت کا انسان.../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف*حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس* *درس: 18* *مبحثِ اوّل: اسبابِ تکلیفِ انسانی اور مجازاتِ عمل* *باب:9* غیر متبدل جبلت و فطرت کا انسان کے تین دائروں میں اثر : ظہورِ اخلاق، صدورِ اعمال اور حصولِ مراتب ِکمال ملکیت و بهیمیت کی مختلف پہلوؤں کے تناظر میں جبلت و فطرت پر لا جواب اور سیر حاصل گفتگو *مُدرِّس*: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 11؍ اپریل 2018ء *بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇 0:24 ❶ اس باب کا اجمالی خاکہ اور امام شاہ ولی اللہ دہلوی پر جبلت و فطرت سے متعلق علم کی خاص عنایتِ الہی 9:17 ❷ فطرت و جبلت پر احادیثِ مبارکہ اور آیت قرآنی سے استدلال اور امام شاہ ولی دہلوی کی لاجواب تشریح و تفہیم 17:52 ❸ جبلت و فطرت کے اعتبار سے قوتِ ملکیت کے دو دائرے: ملأ اعلی اور ملأ سافل سے مناسب دونوں قوتوں کی صفات 30:37 ❹ جبلت و فطرت کے اعتبار سے قوتِ بھیمیت کے دو دائرے: خالص و طاقت ور بهیمیت اور کمزور و نازک بهیمیت کی صفات و خصوصیات 40:33 ❺ انسان کی ملکیت و بهیمیت کے اجتماع سے ٹکراؤ: تجاذب (کشمکش) یا تصالح (باہمی صلح)کی کیفیت سے آٹھ ممکنہ اقسام 59:23 ❻ بهیمیت شدیدہ اور ملکیت و بهیمیت میں کشمکش کی حالت کا علاج ریاضاتِ شاقہ ہے۔ 1:01:31 ❼ بهیمیتِ شدیدہ اور ملکیتِ عالیہ والوں کی مختلف حالتیں 01:04:36 ❽ ملکیتِ عالیہ اور بهیمیتِ ضعیفه والے بڑے امور (سیاست و حکومت) سے الگ تھلگ اور توجہ الی اللہ میں مشغول رہتے ہیں۔ 1:06:53 ❾ بہیمیت شدیدہ اور ملکیت عالیہ والوں میں ملک کا نظم و نسق چلانے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے ۔ 01:08:17 ❿ بہیمیتِ شدیدہ اور اونچے درجے کی ملکیتِ عالیہ والے دین کی ریاست اور دنیا کی سیاست کے امام ہوتے ہیں، جیسے کہ انبیاء اور ان کے خلفاء 1:10:17 ⓫ انسانیت کے بڑے بڑے ستون، سلطان اور اولو الامر حضرات اور ان کے متعبین 01:14:03 ⓬ اہل تجاذب؛ بہیمیتِ ضعیفہ اور ملکیتِ سافلہ یا عالیہ والوں کی حالت 01:15:41 ⓭ جبلت و فطرت کے اصولوں کا حاصلِ کلام پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/