خطبات

قرآن حکیم کی حقیقت افروز تعلیمات کی روشنی میں نفسانی، معاشرتی اور سیاسی توہمات کے خلاف شعوری بیداری کی ضرورت | 31-07-2026

قرآن حکیم کی حقیقت افروز تعلیمات کی روشنی میں نفسانی، معاشرتی اور سیاسی توہمات کے خلاف شعوری بیداری کی ضرورت | 31-07-2026
قرآن حکیم کی حقیقت افروز تعلیمات کی روشنی میں نفسانی، معاشرتی اور سیاسی توہمات کے خلاف شعوری بیداری کی ضرورت خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 16؍ صفر المظفّر 1448ھ /31؍ جولائی 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیات اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍؕ-اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُۚ-وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى(23) اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘(24) فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠(25) سورۃ النجم:53 (23-25) ترجمہ: یہ تو صِرف نام ہی نام ہیں جو تُم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لیے ہیں، جِن پر خُدا نے کوئی سَنَد بھی نہیں اُتاری، وہ محض وہم اور اپنی خواہش کی پَیروی کرتے ہیں، حالانکہ اُن کے پاس اُن کے ربّ کے ہاں سے ہدایت آ چکی ہے۔ پِھر کیا انسان کو وُہی مِل جاتا ہے جس کی تمنّا کرتا ہے؟ پس آخرت اور دنیا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 ✔ انبیائے کرامؑ کی تعلیمات بطور حقیقت شناسی کا پیغام ✔ حضرت آدمؑ کی مخلوقات پر برتری کی وجہ: کائناتی حقائق کا عِلم ✔ کائنات کی مرکزی حقیقت کا ادراک اور عقیدہ توحید کی اہمیت ✔ حقائق اور ہدایت کی بنیاد پر انبیائے کرامؑ کی تعلیمات اور ان کے مقابل وساوس و توہّمات کا بے بنیاد نظام ✔ خطبے میں مذکور آیت کی روشنی میں ’ہوائے نفس‘ کی وضاحت ✔ ’ہدایت‘ کی حقیقت اور اس کا تاریخی تسلسل ✔ جاہلیت کے حامل معاشرے کا توہمات کے ساتھ لازم و ملزوم تعلق ✔ ملکی سیاسی مسائل کے حل کی بابت مقتدرہ کی سیاسی توہمات پر مبنی غیر شعوری تجویز کا تجزیہ ✔ ماہِ صفر المظفّر میں موجود معاشرتی توہمات کا تحلیل و تجزیہ ✔ سیاسی توہمات پر مبنی استحصالی کاروبار کے ظالمانہ نظام کا جال ✔ ملکی استحصالی نظام کی تباہ کاریاں اور اس کو تحفظ فراہم کرنے والی مقتدرہ کے غلط رویے ✔ پُر فریب نعروں کی جھنکار میں ظالمانہ نظام کی اسّی سالہ تاریخ کا تجزیہ ✔ حقیقت پسندی پر مبنی شعوری فکر اور جدوجہد کی ضرورت و اہمیت